رسائی کے لنکس

شام میں اتحادی افواج کی فضائی کارروائی، تیس ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اتحادی افواج کی شام میں ’داعش‘ کے زیر کنٹرول تیل کی ایک تنصیب پر فضائی کارروائی جس میں اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عسکریت پسند اور ریفائنری کے ملازمین دونوں شامل ہیں۔

شام کے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم اتحادی افواج کی شام میں ’داعش‘ کے زیر کنٹرول تیل کی ایک تنصیب پر فضائی کارروائی میں تیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن راٹس نے کہا ہے کہ یہ آئل ریفائنری ’داعش‘ چلا رہی تھی اور ہلاک ہونے والوں میں عسکریت پسند اور ریفائنری کے ملازمین دونوں شامل ہیں۔

سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن راٹس پورے شام میں اپنے ذرائع کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے تشدد کے واقعات پر نظر رکھتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق عراق اور شام میں مقامی زمینی افواج کی مدد کے لیے اتحادی ممالک کی فضائیہ گزشتہ اگست سے اب تک عراق اور شام میں ’داعش‘ کے جنگجوؤں اہداف پر تقریباً 2300 فضائی حملے کر چکے ہیں۔

عراقی حکومت کی جانب سے ملک کے نوادرات کی حفاظت کے لیے کی گئی درخواست کے جواب میں بھی اتحادی افواج نے حالیہ ہفتوں میں ’داعش‘ کے ٹھکانوں پر کئی حملے کیے ہیں۔

’داعش‘ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے ملک کے آثارِ قدیمہ کو منظم انداز میں تباہ کرنا شروع کر رکھا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان کی مون کا کہنا ہے انہیں عراق کے ثقافتی ورثے کی تباہی کا سخت غم و غصہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’داعش‘ نے یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل شمالی عراق میں واقع شہر الحضر‎ میں بھی قدیمی باقیات کو مسمار کر دیا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ ان حملوں اور نوادرات کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے میں مدد کرے۔

تاہم تكريت‎ کو ’داعش‘ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے عراقی فوج اور شیعہ ملیشیا کے جانب سے گزشتہ ایک ہفتے سے جاری زمینی کارروائی کے دوران اتحادی افواج کی طرف سے فضائی کارروائیاں نہیں کی گئی ہیں۔

تکریت عراق کے دارالحکومت بغداد اور شمال میں ’داعش‘ کے زیرِ تسلط موصل کے درمیان واقع ایک اہم شہر ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کی معاونت سے کی جانے والی اس زمینی کارروائی میں ہزاروں فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG