رسائی کے لنکس

مبصرین کا داخلہ: شام کو جمعہ تک کی ڈیڈلائن


قاہرہ میں شام کے معاملےپر ہونے والا عرب لیگ کا اجلاس

قاہرہ میں شام کے معاملےپر ہونے والا عرب لیگ کا اجلاس

’دمشق کی جانب سے مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں تنظیم کے نمائندوں کا ہفتے کو اجلاس ہوگا جس میں شام کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا‘

عرب لیگ نےبین الاقوامی مبصرین کوشام میں داخلے کی اجازت دینےکے لیے شامی حکومت کو جمعے تک کی ڈیڈلائن دیدی ہے۔

عرب لیگ کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ دمشق کی جانب سے مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں تنظیم کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہفتہ کو منعقد ہوگا جس میں شام کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس بات کا اعلان جمعرات کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کیا گیا جس کا مقصد حزبِ مخالف سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے خلاف جاری صدر بشار الاسد کی حکومت کی کاروائیوں پر غور کرنا تھا۔

تنظیم کے عہدیداران کے مطابق شامی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف پرتشدد کاروائیاں بند نہ کیے جانے کی صورت میں شام کے خلاف مزید اقدامات بھی عرب لیگ کے زیرِ غور ہیں۔

یاد رہے کہ عرب لیگ کے تجویز کردہ امن معاہدے کے تحت پرتشدد کاروائیوں کے خاتمے اور سرکاری افواج کا شہروں سے انخلا کا وعدہ پورا کرنے میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی ناکامی کے بعد تنظیم نے دو ہفتے قبل شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔

عرب لیگ کے اجلاس سے قبل فرانس کے وزیرِ خارجہ ایلن جوپ نے عام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کو شام میں 'انسانی راہداری' قائم کرنے اور بین الاقوامی مبصرین بھجوانے کی تجویز دی تھی۔

جمعرات کو دیے گئے اپنے بیان میں فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ اس تجویز کے لیے عرب لیگ کی حمایت کے حاصل کرنے ساتھ ساتھ اس پر امریکہ اور اقوامِ متحدہ میں موجود دیگر اتحادیوں کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن شامی حکومت بیشتر ہلاکتوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروہوں اور مذہبی انتہا پسندوں پر عائد کرتی ہے۔

دریں اثنا، شام کے پڑوسی ملک اسرائیل کے نائب وزیرِ اعظم موشے یالون نےجمعرات کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کی صورتِ حال جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس سے لگتا ہے کہ صدر بشار الاسد کا اقتدار اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG