رسائی کے لنکس

حلب: لڑائی شدت اختیار کر گئی

  • واشنگٹن

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم

ایسے میں جبکہ شام کے کاروباری مرکز، حلب، میں لڑائی زوروں پر ہے، شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم، اپنے قریبی اتحادی، ایران، کے غیر اعلانیہ دورے پر ہیں

ایسے میں جب باغی حکومت کی پُرتشدد کارروائی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، بتایا جارہا ہے کہ حکومتِ شام کی فوج نے حلب کے مرکزی شہر میں ٹینکوں کا استعمال اور گولہ باری جاری رکھی ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس ‘ نے بتایا ہے کہ شہر کے جنوب مغربی اضلاع میں اتوار کے روز بھی شدید لڑائی جاری رہی۔

دراصل یہ شام کے کاروباری مرکز حلب پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ ہے، جو بات حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

مخالفین سے تعلق رکھنے والی ’سیریئن نیشنل کونسل ‘نے اقوام ِمتحدہ کی سلامتی کونسل سے حلب کے معاملے پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے وہاں پر قتلِ عام کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

ایسے میں جب لڑائی میں شدت آگئی ہے، شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے شام کے قریبی اتحادی ایران کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔

تہران میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ ’شام مخالف فورسز‘ حلب میں اکٹھی ہوگئی ہیں جنھیں، اُن کے بقول، ’ہر حال میں شکست دینا ہوگی‘۔

ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اسد حکومت کے خاتمے کی صورت میں خطے اور دنیا پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔

دریں اثنا، اردن نے شام سے بھاگ نکلنے والوں کی امداد کےلیے اتوار کے روز اپنا پہلا خیمہ کیمپ قائم کیا ہے۔

اردن کے وزیر خارجہ نصر جودا نے بتایا ہے ایک لاکھ بیالیس ہزار شامی متاثرین کو اب تک پناہ دی جاچکی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ روزانہ 2000 متاثرین اردن پہنچ رہے ہیں۔

ترکی نے 44000سے زائد شامیوں کو پناہ دے رکھی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال مارچ میں شام میں شروع ہونے والی شورش میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17000سے تجاوز کر گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG