رسائی کے لنکس

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ حلب شہر کے جنوب مشرق میں ’’شدید لڑائی چھڑی ہوئی ہے، جس میں سرکاری فوجیں اور داعش کے وفادار میلیشیا آمنے سامنے ہیں‘‘

ایسے میں جب اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنیوا میں امن مذاکرات جاری ہیں، شام کی لڑائی پر نگاہ رکھنے والے ایک گروپ نے کہا ہے کہ شام کی افواج حلب کے جنوبی شہر کے قریب مختلف محاذوں پر لڑ رہی ہیں۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ حلب شہر کے جنوب مشرق میں ’’شدید لڑائی چھڑی ہوئی ہے، جس میں سرکاری فوجیں اور داعش کے وفادار میلیشیا آمنے سامنے ہیں‘‘۔

الگ سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ فوج نے ،جس کی پیش پناہی روسی لڑاکا طیارے کر رہے ہیں، جمعرات کو حلب کے شمال میں حملہ کیا، جس سے باغیوں کے زیر کنٹرول شہر کو جانے والا کلیدی راستہ بند کیے جانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ گذشتہ 24 برسوں کے دوران یہ لڑائی ہندرات کے قریب بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 حکومت کے حامی لڑاکا اور 20 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

آبرویٹری کے سربراہ، رمیع عبدالرحمٰن کے بقول، ’’شام میں حلب جنگ و امن کا محور بنا ہوا ہے۔۔۔ اور، لڑائی میں ملوث تمام فریق کا حلب سے کوئی نہ کوئی واسطہ ہے‘‘۔

واشنگٹن میں ایک اعلیٰ اہل کار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ، ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ امریکہ کو اِن اطلاعات پر ’’شدید تشویش ہے‘‘ جِن میں بتایا گیا ہے کہ حلب کے قریب معرکے میں حکومتِ شام کی روس پشت پناہی کر رہا ہے۔

شام میں پانچ برس سے جاری تنازع پُرامن تحریک کی صورت میں شروع ہوا، اور سنہ 2012میں صوبہٴ حلب کی جانب پھیل گیا، جس کی سرحدیں ترکی سے ملتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG