رسائی کے لنکس

مغربی سفارت کاروں نے توقع کا اظہار کیا ہے کہ عنان کی طرف سے مصالحت کے نتیجے میں اقوام متحدہ تیزی سے قرارداد منظور کرے گی، جس میں مخالفین کے خلاف پُر تشدد کارروائی پر مسٹر اسد کی مذمت کی جائے گی

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کوفی عنان نے جمعے کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ تعطل کو ختم کرتے ہوئے شام پر دباؤ ڈالا جائے، تاکہ اختلاف رائے رکھنے والوں پرجاری مہلک کریک ڈاؤن بند کرایا جاسکے۔

جنیوا میں ایک بریفنگ کے دوران، عالمی ادارے کے سابق سربراہ نے کہا وہ اگلے ہفتے ایک ٹیم دمشق بھیجنے والے ہیں جو بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کے منصوبے پر بات کرے گی۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ عنان نے یہ بیان جمعے کے روزوڈیو کے ذریعےکونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے دیا، جس سے ایک ہی ہفتہ قبل وہ شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کرچکے ہیں۔

مغربی سفارت کاروں نے اِس توقع کا اظہار کیا ہے کہ عنان کی مصالحت کے نتیجے میں اقوام متحدہ تیزی سے ایک قرارداد منظور کرے گی جس میں مخالفین کے خلاف پُر تشدد کارروائی پر مسٹر اسد کی مذمت کی جائے گی۔ روس اور چین شام کے خلاف مذمتی قراردادوں کو دو مرتبہ ویٹو کرچکا ہے۔

عنان کی بریفنگ سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے ایک بیان میں بتایا کہ حکومت نے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ایلچی کے ساتھ تعاون کا عہد کیا ہے۔ بیان میں وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر ہلاکت خیز تشدد کا الزام دہشت گردوں اور بیرونی مداخلت پر لگایا۔

کوفی عنان نے گذشتہ ہفتے اور اتوار کومسٹر اسد سے ملاقا ت کی تھی۔ ایلچی نے جنگ بند کرنے، انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور سیاسی مکالمے کا آغاز کرنے کے بارے میں تجاویز پیش کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG