رسائی کے لنکس

عنان کی سفارت کاری اور شامی فوج کا باغیوں پر حملہ


کوفی عنان

کوفی عنان

شام کی صورت حال پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، عنان نے مسٹر اسد پر زور دیا کہ وہ موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدام کریں

ایسے میں جب صدر بشار الاسد عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی طرف سے امن کے ایلچی، کوفی عنان سے دمشق میں ملاقات کر رہے تھے، ہفتے کو شامی فوج نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سرکشوں کے شہر ادلیب پر حملہ کردیا۔

ہفتے کو انٹرنیٹ پرجاری کیے گئے ایک وِڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ شہر کے شمال سے سیاہ رنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، جب کہ دیگر تصاویر میں شہریوں کو اپنا سامان اٹھائے جان بچانے کی خاطر اِدھراُدھردوڑتے دکھایا گیا ہے۔

شام کی صورت حال پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، عنان نے مسٹر اسد پر زور دیا کہ وہ موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدام کریں۔

ملاقات کے دوران عنان نے تشدد کے خاتمے، امدادی اداروں کو رسائی دینے، حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی اور عوام کی جائز خواہشات اور تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے متعدد تجاویزسامنے رکھیں۔

سرکاری میڈیا نے شامی راہنما کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اُن تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جن سے لڑائی کو بند کیا جاسکے۔ لیکن، مسٹر اسد نے متنبہ کیا کہ کوئی سیاسی تصفیہ تب تک کارگر نہ ہوگا جب تک، اُن کے بقول، ’دہشت گردوں ‘ کو سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کی اجازت دی جاتی رہے گی۔

عنان نے شام کے اپوزیشن لیڈر سے بھی ملاقات کی اور اتوار کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے شام کے صدر سے ملنے والے ہیں۔

ہفتے کو قاہرہ میں ہونے والےعرب عہدے داروں کے ایک اجلاس میں شام کی مذمت کی گئی، اور مطالبہ کیا گیا کہ اُسے ہلاکتوں اور تباہی کا ذمہ دار قرار دیاجائے۔ اُنھوں نے ایک پانچ نکاتی امن منصوبے کا اعلان کیا جس میں تشدد کےخاتمے، غیر جانبدارانہ مبصرین کی تعیناتی، انسانی بنیادوں پر آزادانہ امدادی کام کرنے، غیر ملکی مداخلت سے احتراز اور کوفی عنان کے مشن کی حمایت کرنا شامل ہے۔

مسٹر عنان ان دنوں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کی طرف سے شام کے لیے خصوصی ایلچی کے عہدے پر فائز ہیں۔ انھوں نے بحران کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ مسلح باغی فورسز پر طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

عرب لیگ کے رکن ملک قطر نے قاہرہ میں عرب وزرائے خارجہ کے ہفتہ کو ہونےو الے اجلاس کو بتایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عرب اور غیر ملکی افواج شام بھیجی جائیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی مصر میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی۔ روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پیش کی جانے والی قراردادوں کو دو مرتبہ ویٹو کیا ہے۔

امدادی سرگرمیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کی سربراہ ویلری آموس نے جمعے کے روز کہا تھا کہ شامی حکام نے حکومت کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے حکومت مخالف افراد تک اقوام متحدہ کو رسائی کی اجازت دینے پر غور کے لیے بھی مزید وقت مانگا ہے۔

ترکی کے شہر انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آموس نے بتایا کہ شامی حکومتی عہدیدار تشدد سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔

شام میں حزب مخالف کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس دوران کم ازکم 31 افراد ہلاک ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG