رسائی کے لنکس

گذشتہ سال کے دوران چار عرب ملکوں کی حکومتیں عوامی تحریکوں کے ریلے میں بہہ گئیں لیکن شام کی حکومت اور سیکورٹی کا نظام اس دباؤ کے باوجود قائم رہا ۔ شام میں عوامی تحریک کے آغاز کی پہلی سالگرہ کے موقعے پر، قاہرہ سے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار الزبتھ ارروٹ نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت دوسرے عرب ملکوں سے کس طرح مختلف ہے ۔

مصر میں فوج نے جس پر ایک طویل عرصے سے حسنی مبارک کو بڑا بھروسہ تھا، انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے میں مدد دی۔ لیبیا میں حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں نے عوامی تحریک کی ابتدا ہی سے خود کو معمر قذافی سے دور کرنا شروع کر دیا۔ تیونس کے زین العابدین بن علی چند ہی ہفتوں کے اندر ملک سے فرار ہو گئے جب کہ یمن میں، علی عبداللہ صالح نے وقت تو لیا، لیکن بالآخر جب ہمسایہ ملکوں نے ان پر زور ڈالا، تو انھوں نے بھی جلا وطنی اختیار کرنے پر عافیت جانی۔

اس کے برخلاف، شام کے صدر کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کہیں جانے کی جلدی نہیں ہے ۔ ایک طرف حمص اور ادلیب میں ان کی فوج نے باغی فورسز کو تہس نہس کر دیا ہے، اور دوسری طرف بعض ایسی ای میل ہاتھ لگی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی بیگم اپنے دمشق کے گھر کے لیے فرنیچر کی خریداری میں مصروف ہیں۔

بشا رالاسد کے پُر اعتماد رویے کی ایک وجہ وہ نظام ہے جو ان کے والد، حافظ الاسد نے تعمیر کیا تھا اور جس کی بدولت ان کا گھرانہ شام میں 40 برس سے بر سرِ اقتدار ہے ۔

کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے ڈائریکٹر پاؤل سلیم کہتے ہیں’’یہ حکومت 1970 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی اور شروع ہی سے اس طرح ترتیب دی گئی تھی کہ بغاوتیں اور فوجی انقلاب نہ ہونے پائیں۔‘‘

حافظ الاسد نے انٹیلی جنس سروسز کا ایک پیچیدہ نظام قائم کیا جس میں بہت سے مختلف ادارے ایک دوسرے پر جاسوسی کرتے ہیں یعنی جاسوسی کرنے والوں پر بھی مسلسل نظر رکھی جاتی ہے ۔ اپنے بیٹے کی طرح انھوں نے تمام اہم عہدے اقلیتی علویہ فرقے کے لوگوں کو دیے اور انہیں اور مسیحی اور دروز اقلیتوں کو بھی خبردار کیا کہ اگر سنّی اکثریت اقتدار میں آ گئی تو ان کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں اب تک ایک مضبوط مرکز قائم رہا ہے ، اور صرف ایک اعلی ٰ عہدے دار ، تیل کے نائب وزیر ، اس ماہ حکومت سے منحرف ہوئے ہیں، جب کہ عوامی تحریک شروع ہوئے تقریباً ایک سال ہو چکا ہے۔

پاؤل سلیم کہتے ہیں’’داخلی انٹیلی جنس سروس کے ذریعے ان افسروں اور سرکاری عہدے داروں پر نظر رکھی جاتی ہے جن کے فرار ہو جانے کا امکان ہوتا ہے تاکہ انہیں روکا جا سکے ۔ اب تک بہت کم لوگوں نے اپنے عہدے چھوڑے ہیں۔‘‘

فوج میں نچلے درجے کے کچھ عہدے داروں نے اپنے عہدے چھوڑے ہیں۔ اکثر یہ سنی سپاہی ہوتے ہیں جو اپنے جیسے گاؤں اور شہروں میں رہنے والے لوگوں پر گولی چلانا نہیں چاہتے۔ باغیوں کی فری سیرین آرمی کے بیشتر سپاہی انہیں لوگوں پر مشتمل ہیں۔ حزبِ اختلاف کے ممتاز رکن حاشم المالح کہتے ہیں کہ یہی ایک گروپ حکومت سے ٹکر لینے کا اہل ہے ۔

’’یہ لوگ اپنا دفاع کرنا چاہتے ہیں لیکن اس حکمراں ٹولے کو صرف سیاسی، پُر امن ذرائع سے نہیں روکا جا سکتا ۔ اسے طاقت کے ذریعے ہی روکنا ہو گا۔‘‘

اب حب کہ بین الاقوامی برادری میں اسد حکومت کی مذمت کرنے تک پر اتفاقِ رائے نہیں ہے، اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ لیبیا کی طرح شام میں اقوامِ متحدہ کی مدد سے کوئی اقدام کیا جائے ۔ المالح کہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کم از کم اتنا تو کر سکتی ہے کہ فری سیرین آرمی کو اسلحہ فراہم کر دے ۔

گلف ریسرچ کونسل کے سربراہ عبدالعزیز سقر کہتے ہیں کہ ہتھیار اہم ضرور ہیں لیکن صرف جزوی طور پر۔’’ آپ ایک باقاعدہ منظم فوج سے کلاشنکوف سے یا پستولوں سے نہیں لڑ سکتے۔ آپ کے پاس ٹینک شکن مزائل ہونے چاہئیں، اور نگرانی کے ذرائع اور انٹیلی جنس کی اطلاعات ہونی چاہئیں ۔ اگر روسی اپنے جاسوسی کے سٹلائٹوں کے ذریعے شام کی فوج کو انٹیلی جنس کی معلومات فراہم کر رہے ہیں، تو فری آرمی کے پاس انٹیلی جنس کی صحیح اطلاعات ہونی ضروری ہیں تا کہ وہ اپنی نقل و حرکت کو منظم کر سکے ۔‘‘

شام کی حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک روس ہے، اور اس نے جو کردار ادا کیا ہے اس سے شام کی عوامی جدوجہد کا ایک بڑا فرق نمایاں ہو گیا ہے ۔ شام میں علاقائی اور عالمی سطح پر کئی ملکوں کا مفاد داؤں پر لگا ہوا ہے ۔ اس علاقے میں شام ہی روس کا آخری اتحادی بچا ہے، اور روس نہیں چاہتا کہ لیبیا کی طرح امریکہ یا مغربی طاقتیں، شام میں بھی پہل کریں ۔

عبدالعزیز سقر کہتے ہیں’’ہمارے لیے جو اس علاقے میں رہتے ہیں، در اصل شام میں روس کی بالا دستی کا مطلب یہ ہے کہ روس نے شام میں امریکہ پر فتح حاصل کر لی ہے ۔‘‘

ادھر واشنگٹن نے حزبِ اختلاف کی زبانی حمایت تو کی ہے، لیکن کوئی عملی اقدام کرنے میں سستی سے کام لیا ہے ۔ اس نے مداخلت کے نتیجے میں حالات کے پیچیدہ ہونے کے بار ے میں انتباہ کیا ہے ۔
پھر یہ بھی ہے کہ یہ مسئلہ ایسے وقت پیدا ہوا ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر اور دوسرے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران شام کا حامی ہے اور اسے علاقے میں غیر سنّی اثر و رسوخ اور ایران کے حامی گروپ حزب اللہ کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔

علاقے میں کچھ اور ملک بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ حالات کا جوں کا توں رہنا ان کے مفاد میں ہے ۔ ان میں اسرائیل بھی شامل ہے جسے ڈر ہے کہ اگر اسد کے جانے کے بعد، شام میں بنیاد پرست بر سرِ اقتدار آ گئے تو یہ اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا ۔

سقر کہتے ہیں’’شام میں مضبوط فوج اورداخلی سیکورٹی والی حکومت قائم ہے اور اس کے پڑوس میں جو ملک ہیں، جیسے اردن، لبنان، عراق اور ترکی، وہ اس کے خلاف کوئی موقف اختیار کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ لہٰذا جغرافیائَی اور سیاسی حالات اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات سے بھی اسے مد د ملی ہے اور اس کے خلاف کوئی فوجی یا خارجی کوشش کرنا آسان نہیں رہا۔‘‘

گذشتہ سال اس قسم کی پیشگوئیاں عام تھیں کہ مسٹر اسد کی حکومت کا بھی وہی انجام ہو گا جو مصر میں اور دوسرے ملکوں میں ان کے ہم منصبوں کا ہوا ہے ۔ نا گزیر اور فوری جیسے الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے جاتے تھے ۔ بہت سے لوگ اب بھی لفظ نا گزیر استعمال کرتےہیں، لیکن لفظ فوری کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG