رسائی کے لنکس

شامی وزیرِ خارجہ کی عرب لیگ پر کڑی تنقید


شامی وزیرِ خارجہ کی عرب لیگ پر کڑی تنقید

شامی وزیرِ خارجہ کی عرب لیگ پر کڑی تنقید

شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے 'عرب لیگ' کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تنظیم کی جانب سے شام میں جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے تجویز کیے گئے حل کو مسترد کردیا ہے۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شامی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 22 رکنی عرب تنظیم کے وزرائے خارجہ جانتے تھے کہ ان کی پیش کردہ سفارشات کو شام اپنی خومختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کردے گا۔

یاد رہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں شام کے صدر بشار الاسد سے کہا گیا تھا کہ وہ اختیارات اپنے نائب کو سونپ کر اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں اور دو ماہ کے اندر ملک میں اتفاقِ رائے سے ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے جو عرب اور بین الاقوامی مبصرین کی زیرِ نگرانی انتخابات کرائے۔

عرب لیگ کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے سربراہ نبیل العربی اور قطر کے وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو ایک مشترکہ خط بھیجا ہے جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ عرب لیگ کی جانب سے تجویز کردہ حل کی حمایت کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کریں۔

ایک علیحدہ بیان میں چھ خلیجی ریاستوں نے بھی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ شامی حکومت کو عرب لیگ کے تجویز کردہ حل کو تسلیم کرنے پہ مجبور کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

تاہم اپنی پریس کانفرنس میں شامی وزیر کا کہناتھا کہ ان کا اہم اتحادی روس شام کے معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

ماسکو حکومت اس سے قبل بھی صدر الاسد کی حکومت کے خلاف سخت قرارداد لانے کی مغربی ممالک کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے سلامتی کونسل میں اپنے ویٹو کا اختیار استعمال کرچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG