رسائی کے لنکس

ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری تحریک میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں

شام میں جہاں سیکیورٹی فورسز صدر بشارالاسد کے خلاف جاری تحریک کو کچلنے میں مصروف ہیں وہاں کئی فوجی عہدے دار منحرف ہوکر یا تو ملک چھوڑ رہے ہیں یا پھر باغیوں کے ساتھ شامل ہورہے ہیں۔

ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری تحریک میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں اور اقوام متحدہ کے امن کاروں کو فریقین میں فائربندی کرانے میں ابھی تک ناکامی کا سامنا کرناپڑ رہاہے۔

اصلاحات کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رکھنے کے لیے مغربی ممالک شام پر کئی پابندیاں لگاچکے ہیں اور ان کا الزام ہے کہ روس ان حالات میں بھی شام کو مسلسل ہتھیار فراہم کررہاہے۔

شام کی فوجی قوت کا تخمینہ ذیل میں دیا جارہاہے۔

بری افواج:

فوجیوں کی تعداد ۔ دوسے اڑھائی لاکھ
ٹینک: تقریباً پانچ ہزار
جاسوس گاڑیاں: تقریباً چھ سو
توپیں: ساڑھے تین ہزار
فضائیہ اور بحریہ:
ائیر فورس: 30 ہزار
نیوی: پانچ ہزار
لڑاکا طیارے: 300
جاسوس طیارے: 48
لڑاکا ہیلی کاپٹر: 36
ٹرانسپورٹ طیارے: 100
XS
SM
MD
LG