رسائی کے لنکس

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اسد نے متنبہ کیا کہ مغربی اور عرب ممالک جو، بقول اُن کے، ’دہشت گرد‘ ہیں، اُنھیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی

شام کے صدر بشار الاسد نےعہدے کی نئی سات سالہ میعاد کا حلف اُٹھا لیا ہے، جن انتخابات کو حزب مخالف اور مغربی ممالک پہلے ہی ’جعلی‘ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

اُنھوں نے بدھ کو دمشق کے صدارتی محل میں ہونےوالی ایک تقریب میں عہدے کا حلف لیا، جس میں ملک کے پارلیمان کے ارکان نے شرکت کی۔

گذشتہ ماہ، مسٹر اسد نےصرف اُن علاقوں میں بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کیے جو حکومتی کنٹرول میں ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اسد نے متنبہ کیا کہ مغربی اور عرب ممالک جو، بقول اُن کے، ’دہشت گرد‘ ہیں، اُنھیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

اُنھوں نے اپنی ’فتح‘ پر شام کے عوام کو مبارکباد یتے ہوئے مجمعے سے کہا کہ دوسرے ’اسے انقلاب کا نام دے رہے تھے، لیکن اصل انقلابی آپ ہیں‘۔

حکومت شام مسٹر اسد کے مخالف باغیوں کو عام طور پر دہشت گرد قرار دیتی ہے۔

مغربی اور عرب ممالک نے شام کی تقریبا ً ساڑھے تین سالہ خانہ جنگی کے دوران مخالف جنگجوؤں کو رقوم اور ہتھیار فراہم کیے ہیں، لیکن حالیہ دِنوں میں مسٹر اسد کی فوجوں نے کئی محاذوں پر پیش قدمی دکھائی ہے، ایسے میں جب باغیوں کو اسلحے کی کمی اور اندرونی لڑائی کا سامنا ہے۔


حلف لینے سے قبل، عمارت میں داخل ہوتے وقت مسٹر اسد فوجی دستوں کے بیچ سرخ قالین پر سے گزرے، جب کہ قانون سازوں نے کھڑے ہوکر اُن کا خیرمقدم کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جون میں ہونےوالی ووٹنگ میں مسٹر اسد کو 89 فی صد ووٹ پڑے، جن میں ایک کروڑ ووٹروں حصہ لیا۔

مارچ 2011ء میں شروع ہونے والا پُرامن احتجاج شامی تنازع کا روب دھار چکا ہے، جس میں اب تک 170000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 29 لاکھ شامی ملک چھوڑ کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ پھر یہ کہ لڑائی کے نتیجے میں مزید 65 لاکھ افراد اندرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG