رسائی کے لنکس

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

شام کے دارالحکومت دمشق میں جمعرات کو ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 83 ہو گئی ہے جب کہ ان میں سے ساٹھ سے زائد افراد حکمران ’بعث‘ پارٹی کے صدر دفتر کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

سیرئین آبزرویٹری گروپ نے جمعہ کو بتایا کہ ’بعث‘ پارٹی کے صدر دفتر پر بم دھاکے کے علاوہ دمشق میں دیگر تین بم دھماکوں میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان دھماکوں میں سے ایک شمالی ضلع برزہ میں ہوا، جہاں ’نیشنل سکیورٹی‘ کا صدر دفتر ہے اور اس میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر فوجی تھے۔

ان دھماکوں میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ ملک میں دو سالوں سے جاری لڑائی میں یہ سب سے مہلک بم دھماکے تھے۔
XS
SM
MD
LG