رسائی کے لنکس

شام میں تشدد کے واقعات پر نظر رکھنے والی تنظیم ’سیرئین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس‘ کے مطابق النصرہ فرنٹ کے لوگ ایک مسجد میں افطار کے لیے موجود تھے کہ یہ دھماکا ہوا۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم ’سیرئین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس‘ کے مطابق شام کے صوبے ادلب میں ایک مسجد میں بم دھماکے میں القاعدہ سے منسلک تنظیم النصرہ فرنٹ کے کم از کم 25 ’باغی‘ ہلاک ہو گئے

شام میں تشدد کے واقعات پر نظر رکھنے والی تنظیم ’سیرئین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس‘ کے مطابق یہ دھماکا ’اریحا‘ نامی قصبے میں ہوا۔

برطانیہ میں مقیم اس تنظیم کے مطابق النصرہ فرنٹ کے لوگ ایک مسجد میں افطار کے لیے موجود تھے کہ یہ دھماکا ہوا۔

تنظیم کے مطابق بم دھماکے میں النصرہ فرنٹ سے وابستہ غیر شامی ایک سخت گیر ’باغی‘ رہنما بھی ہلاک ہوا۔

ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہے اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق دھماکے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم النصرہ فرنٹ کا الزام ہے کہ اُس کے مخالف گروپ ’داعش‘ کے جنگجو اس میں ملوث ہیں۔

شام میں باغیوں کے ’جیش الفتح‘ نامی اتحاد میں النصرہ فرنٹ ایک بڑا گروپ ہے جس نے رواں سال مارچ میں صوبہ ادلب کے بڑے حصے پر قبضہ لیا تھا۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف 2011ء میں شروع ہونے والا احتجاج بعد میں خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا جس میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG