رسائی کے لنکس

دمشق میں ہونے والے دو دھماکوں میں سے ایک بم فوجی گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے سے دیگر کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا

شام میں ہفتے کو متعدد بم دھماکوں میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ اقوام متحدہ کے مبصرین حکومت اور حزب مخالف کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کی نگرانی میں مصروف ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ شمالی شہر الیپو میں ایک کار سروس اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکے کی زد میں قریب سے گزرنے والی ایک بس بھی آ گئی۔

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ دمشق میں ہونے والے دو دھماکوں میں سے ایک بم فوجی گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے سے دیگر کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

فوری طور پر کسی نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ حکومت ایک سال سے ملک میں جاری حکومت مخالف تحریک کے دوران ہونے والے ایسے واقعات کا الزام ’’دہشت گردوں‘‘ پر عائد کرتی ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے مبصرین کا ایک گروپ ہفتہ کو دمشق سے کسی نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ یہ لوگ بین الاقوامی ایلچی کوفی عنان کی طرف سے امن منصوبے کی نگرانی کے لیے شام آئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک کم ازکم نو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ حکومت کہنا ہے کہ ’’غیر ملکیوں کی پشت پناہی والے دہشت گردوں‘‘ کے ساتھ لڑائی میں اس کے کم ازکم 2600 اہلکار مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG