رسائی کے لنکس

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ہلاک شدگان میں فوجی اور شہری دونوں شامل

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ وسطی شام کے شہر حمص کے حکومتی تحویل والے ضلعے میں راکٹ حملے ہوئے ہیں، جن کے باعث اسلحے کا ایک ذخیرہ دھماکوں کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے۔

برطانیہ میں قائم حزب مخالف کے مبصرین کے گروپ، ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ہلاک شدگان میں فوجی اور شہری دونوں شامل ہیں۔

سرگرم کارکنوں کی طرف سے شائع کی گئی ایک آن لائن وڈیو میں حمص کے مضافات میں بھڑکتے آگ کے شعلے دکھائی دے رہے ہیں، جِس کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور وہاں کے باشندے خوف زدہ ہوئے، جِن کی اکثریت صدر بشارالاسد کے حامی علویوں کی ہے، جن کا تعلق بھی اِسی فرقے سے ہے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے باغیوں کے حملے کے نتیجے میں ہوئے اور یہ کہ متعدد دھماکوں کی آوازیں ایک گھنٹے تک سنائی دیتی رہیں، جب دھماکہ خیز مواد پھٹتا رہا۔
XS
SM
MD
LG