رسائی کے لنکس

حمص کے گورنر طلال برازی نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے 16 افراد میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ 15 زخمیوں کا اسپتالوں میں علاج کیا گیا

شام کے وسطی شہر، حمص میں سرکاری قبضے والے مضافات میں ہفتے کے روز کار بم دھماکہ ہوا جس میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ بات سرکاری ابلاغ عامہ کے ذرائع اور مخالفین مبصر گروپ نے بتائی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے، صنعا نے بتایا ہے کہ دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جب کہ برطانیہ میں قائم 'سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس' نے کہا ہے درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ حمص میں ہلاک ہونے والے 16 افراد میں ایک کرنل، ایک پولیس اہل کار اور ایک خاتون شامل ہیں۔

حمص کے گورنر طلال برازی نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے 16 افراد میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ 15 زخمیوں کا اسپتالوں میں علاج کیا گیا۔

ہفتے کے روز ہونے والے اس دھماکے سے چند ہی روز قبل سینکڑوں باغی اور اُن کے اہل خانہ وائر نامی علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے، جو حمص کا مضافاتی علاقہ ہے جہاں مخالفین کا قبضہ رہا ہے۔ اس سے پہلے ایک مقامی معاہدہ طے پایا جس کا مقصد شہر پر سرکاری کنٹرول بڑھانا تھا۔ آبزرویٹری نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت، ہفتے کو امدادی سامان لے کر ٹرک وائر کے علاقے میں داخل ہوئے۔

صنعا اور آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ زہرہ نامی مضافات میں ایک اسپتال کے قریب ایک دھماکہ ہوا۔

صنعا نے مزید بتایا ہے کہ دھماکے سے پھٹنے والی کار میں 150 کلوگرام (330پائونڈ) آتشیں مواد رکھا گیا تھا، اور دھماکے کے فوری بعد ایک قریبی دوکان میں ایک گیس سیلنڈر پھٹا جس میں کئی پولیس اہل کار زخمی ہوئے۔

شمالی شام کے علاقے میں، آبزرویٹری اور مقامی رابطہ کمیٹیاں، جو ملک کی خانہ جنگی کے واقعات درج کرنے والا اپوزیشن کا ایک اور گروپ ہے، کہا ہے کہ روسی فضائی حملوں میں باغیوں کے زیر قبضہ عتریب کے علاقے کو ہدف بنایا گیا۔ آبزرویٹری نے کہا ہے کہ فضائی حملوں میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ دوسرے گروپ نے بتایا ہے کہ چار ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

روس نے 30 ستمبر کو فضائی حملوں کا آغاز کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس کا مقصد شام میں داعش کے گروپ اور دیگر 'دہشت گردوں' کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم، مغربی حکام اور شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ حملوں کا زیادہ تر نشانہ مرکزی اور شمالی شام کا علاقہ ہے، جہاں داعش کے شدت پسند گروہ کی زیادہ آبادی نہیں۔

مارچ 2011ء جب سے بحران شروع ہوا ہے، روس شامی صدربشار الاسد کا مضبوط ترین حامی رہا ہے۔

خانہ جنگی میں اب تک 250000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ پانچ لاکھ زخمی ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG