رسائی کے لنکس

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے کہا ہے کہ شامی حکومت نے انہیں ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ مکمل جنگ بندی کے لیے طے کردہ 12 اپریل کی ڈیڈ لائن کی پاسداری کرے گی۔

بدھ کو تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عنان نے بتایا کہ انہوں نے شام پہ اثر و رسوخ رکھنے والی تمام حکومتوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ تنازع کہ تمام فریقوں کی جانب سے جنگ بندی کے لیے جمعرات کی صبح 6 بجے تک کی ڈیڈلائن پر عمل یقینی بنایا جاسکے۔

اقوامِ متحدہ کے سابق سربراہ نے اپنے دورہ ایران میں شامی حکومت کے اہم اتحادی سے اپیل کی کہ وہ اپنے اتحادی عرب ملک میں جاری قتل و غارت کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کوفی عنان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے ان کے پیش کردہ چھ نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر شام میں کوئی غلط قدم اٹھایا گیا تو شام کے جغرافیائی محل و وقوع کے باعث اس کے ناقابلِ تصور نتائج نکل سکتے ہیں۔

قبل ازیں منگل کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں کوفی عنان نے شامی حکومت کے اس دعویٰ سے اختلاف کیا تھا کہ اس نے کئی شہروں سے فوج کا انخلا شروع کردیا ہے۔

اپنے خط میں خصوصی ایلچی نے شامی حزبِ اختلاف پر زور دیا تھا کہ وہ لڑائی روکنے کے اپنے وعدے پر قائم رہے۔ کوفی عنان نے شامی حکومت پہ اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک سے بھی تنازع کے خاتمے کےلیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔

سلامتی کونسل کے اراکین نے بھی شامی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کی رفتار پہ تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG