رسائی کے لنکس

شام میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد، صورتِ حال زیادہ تر پُرامن


دمشق کے مضافات میں کھیلتے ہوئے بچے

دمشق کے مضافات میں کھیلتے ہوئے بچے

شام میں پیر کو غروبِ آفتاب کے بعد جنگ بندی کا آغاز ہوا، جس کے چند ہی گھنٹے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اعلان کیا کہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں تباہ حال اس ملک کو تحفظ کی فراہمی کا ''یہ آخری موقع ہو سکتا ہے''۔

اطلاعات کے مطابق عام طور پر لڑائی رکی ہوئی ہے۔ تاہم بعض مقام سے جھڑپوں کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ کیری نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور روس کی ثالثی میں ہونے والی اس جنگ بندی کے موئثر ہونے کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

اس سمجھوتے کا اعلان ہفتے کی صبح کیری اور اُن کے روسی ہم منصب، سرگئی لاوروف نے جینوا میں کیا تھا۔ اس کی حمایت متعدد دیگر ملک بھی کر رہے ہیں، جن میں ایران بھی شامل ہے، جو شامی حکومت کی پشت پناہی کرتا ہے اور ترکی جو صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا حامی ہے۔

محکمہ خارجہ کے پوڈیم سے تمام فریق سے مخاصمانہ کارروائیاں روکنے کی اپیل کرتے ہوئے، کیری نے پیش گوئی کی ہے کہ جنگ بندی جاری رہنے کے سلسلے میں شروع میں چیلنج درپیش ہوں گے۔ جب کہ سب سے زیادہ متاثر چند علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی میں کافی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور روس کی ثالثی میں طے ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے پر پیر سے عمل درآمد کا آغاز ہوا، جس سے چند ہی گھنٹے قبل تک سرکاری لڑاکا طیاروں نے حلب اور دیگر شامی صوبوں پر فضائی حملے جاری رکھے، جس کے باعث باغی رہنمائوں میں شکوک و شبہات اور غصہ شدت اختیار کر گیا ہے، جو پہلے ہی اس سمجھوتے پر انتہائی تذبذب کا شکار تھے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے محض صدر بشار الاسد کی حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔


شام کی مسلح حزب مخالف نے مطالبوں کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ پیر کے روز مخاصمانہ کارروائیوں کے خاتمے کے حوالے سے امریکہ سے وضاحتیں طلب کیں، جب کہ جنگ بندی عید الضحیٰ کی مناسبت سے مسلمانوں کے اہم یوم تعطیل کی شروعات ہے۔

صدر اسد نے باغیوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کسی کوشش کا کوئی ذکر نہیں کیا، جب کہ اُنھوں نے پیر کے دِن باقی تمام شامیوں سے مل کر کام کرنے کی بات کی۔ سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن نے اسد کی جانب سے داریہ کے دورے کو دکھایا، جو دمشق کا مضافاتی علاقہ ہے جس کا کنٹرول گذشتہ ماہ حکومت نے سنبھال لیا تھا۔

شامی رہنما نے داریہ کی مسجد میں اہل کاروں کے ساتھ نماز ادا کی؛ جب کہ نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ ''حکومتِ شام دہشت گردوں سے تمام علاقہ واگزار کرانے کے عزم پر قائم ہے''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''بغیر ہچکچاہٹ کے، اور کسی داخلی اور بیرونی صورت حال کے باوجود''، فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

اتوار کے روز متعدد باغی رہنمائوں نے جنگ بندی کے سمجھوتے پر تنقید کی۔ تاہم، یہ بات کہتے کہتے رکے کہ وہ اِسے تسلیم نہیں کرتے۔

انتہائی قدامت پسند، احرار الشام، جو سابق القاعدہ سے منسلک جبہت فتح الشام محاذ کی قریبی اتحادی ہے، جسے پہلے جبہت النصرہ کے نام سے جانا جاتا تھا، اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی کو نہیں مانے گی۔ اس گروپ نے اس سے قبل سمجھوتے کی مذمت کی تھی۔ تاہم، اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

XS
SM
MD
LG