رسائی کے لنکس

دمشق کے اربعین، ہراستا اور زملکا کے مضافات حکومتی گولہ باری کا نشانہ بنے رہے: حزب مخالف

شام کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی لڑاکا طیاروں نے اتوار کے روز دمش کےمضافات میں مخالفین کے گڑھ پر گولہ باری کی جب کہ ملک کےمتعدد دیگر مقامات پر فوج کی باغی جنگ جوؤں کے ساتھ لڑائی جاری رہی، جِس کے باعث عید الاضحیٰ کے اسلامی تہوار کے موقعے پراقوام متحدہ کےتوسط سے ہونے والی جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر رہا۔

لوگوں کی طرف سے شوقیہ طور پر یوٹیوب پرلگائے گئے وڈیوز سے برطانیہ میں قائم سیریئن آبرویٹری فور ہیومن رائٹس کے اِن دعووں کو تقویت ملتی ہے کہ دمشق کے اربعین، ہراستا اور زملکا کے مضافات حکومت کی گولہ باری کا نشانہ بنے رہے۔

آبزرویٹری اور ’لوکل کوورڈینیشن کمیٹیز‘ نامی ایک دوسرے سرگرم گروپ نے بتایا ہے کہ باغیوں کو مضافات سے نکالنے کی غرض سے حکومتی فوج نے اِن علاقوں پر گولہ باری بھی کی۔

معارة النعمان نامی ایک قصبے سے لڑائی جاری رہنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ یہ قصبہ حلب اور دمشق کے ہائی وے کے ساتھ واقع ہے جس پر گذشتہ ماہ باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ حزب مخالف نے ایک قریبی فوجی اڈےپر بھی قبضہ کر لیا ہے اور اُس طرف پہنچائی جانے والی حکومتی کمک کے قافلوں کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔

اتوار کو جنگ بندی کا تیسرا روز تھا جب کہ عید کے چار روزہ چھٹی کے موقعے سے قبل حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی پر رضامندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

جنگ بندی کا آغاز جمعے سے ہونا تھا لیکن اُسی روز 150 افراد ہلاک ہوئے، ہفتے کو 50افراد ہلاک ہوئے جب کہ اتوار کے روز ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا فوری طور پر اندازہ نہیں ہوپایا۔


اقوام متحدہ کے نمائندہٴ خصوصی لخدار براہیمی کے توسط سے جنگ بندی پر رضامندی ہوئی تھی، تاکہ سب لوگ عید الاضحیٰ کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ یہ عید سعودی عرب میں واقع حج کےمتبرک اسلامی مناسک کی سالانہ ادائگی کے بعدمنائی جاتی ہے۔
XS
SM
MD
LG