رسائی کے لنکس

شام: 'کیمیائی حملے' کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب


شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا ہے جب کہ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ باغیوں کے زیر استعمال زہریلے مواد کے پھیلنے سے پیش آیا۔

منگل کو ادلب کے مضافات میں واقع خان شیخون نامی قصبے میں ہونے والے فضائی حملے میں 11 بچوں سمیت 70 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ زہریلی گیس سے متاثر ہو کر موت کا شکار ہوئے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوئتریس کا کہنا ہے کہ شام میں مشتبہ کیمیائی حملہ ایک "ایسا حقیقی لمحہ" ہے جس کی ہر صورت تحقیقات ہونی چاہیے۔

برسلز میں صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پیش آنے والا وحشیانہ واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ "بدقسمتی سے شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی متواتر خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں باغیوں کے زیر تسلط قصبہ باغیوں کے زیر استعمال اسلحہ ڈپو میں رکھے گئے زہریلے مواد سے ہی متاثر ہوا جسے شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے نشانہ بنایا تھا۔

امریکہ اور مغرب نے اس واقعے کا ذمہ دار شام کے صدر بشارالاسد کو قرار دیا تھا۔

لیکن بدھ کی صبح روس کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشنکوف نے ایک بیان میں کہا کہ منگل کو روسی فوجی کو شام میں خان شیخون کے علاقے میں باغیوں کے اسلحہ ڈپو اور فیکٹری کو شامی فورسز کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کا پتا چلا۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑاکا طیاروں نے جس فیکٹری کو نشانہ بنایا وہاں عراق میں استعمال کے لیے کیمیائی ہتھیار بنائے جاتے تھے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایسے ہی کیمیائی ہتھیار باغیوں کی طرف سے حلب میں بھی استعمال کیے گئے تھے اور خان شیخون سے ملنے والی تصاویر اور علامات سے پتا چلتا ہے کہ یہ اموات بھی ایسے ہی اجزا سے ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG