رسائی کے لنکس

شام: کیمیائی ہتھیاروں کی آخری کھیپ حوالے


فائل

فائل

کیمیائی ہتھیاروں پر ممانعت سے متعلق تنظیم کے سربراہ نے پیر کے دِن ہیگ میں کہا ہے کہ سمندری جہاز جس میں کیمیائی ہتھیاروں کی یہ آخری کھیپ لدی ہوئی ہے، لطاکیہ کی شامی بندرگاہ سے روانہ ہو چکا ہے

کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی پر مامور بین الاقوامی ادارے نے، جو شام کو کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے سے پاک کرنے کے کام کا ذمہ دار ہے، کہا ہے کہ اُسے تلف کرنے کے لیے ملک میں موجود زہریلے کیمیائی مواد کی آخری کھیپ موصول ہو گئی ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں پر ممانعت سے متعلق تنظیم کے سربراہ، احمد ازمکو نے پیر کے دِن ہیگ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمندری جہاز جس میں کیمیائی ہتھیاروں کی یہ آخری کھیپ لدی ہوئی ہے، لطاکیہ کی شامی بندرگاہ سے روانہ ہو گیا ہے۔

ازمکو نے کہا ہے کہ تنظیم کے حوالے کیے گئے اس 1300ٹن کیمیائی مواد کو تلف کرنے میں چار ماہ کا عرصہ لگے گا۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے معاون سفیر، پیٹر ولسن نے کہا ہے کہ یہ بات’قابل قدر پیش رفت‘ کی غمار ہے۔ تاہم، شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے سے متعلق اعلان کے بارے میں ابھی ضابطہ کار اور حقائق کی نوعیت کی کوتاہیاں موجود ہیں، جنھیں حل کیا جانا ضروری ہوگا۔

گذشتہ سال دمشق کے مضافات میں ہونے والےسارین گیس کے حملے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والے بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں، شام کے صدر بشار الاسد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرنے کی حامی بھری تھی۔

مغربی ممالک نے زہریلی اعصابی گیس کے استعمال کا ذمہ دار مسٹر اسد کی افواج کو قرار دیا تھا، جب کہ شام کی حکومت ’خانہ جنگی‘ کا ذمہ دار باغیوں کو قرار دیتی ہے، جس کشیدگی کو شروع ہوئے چوتھا سال ہو چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG