رسائی کے لنکس

خانہ جنگی کے بین الاقوامی سطح پر قانونی اثرات

  • مارگریٹ بشیر

شام کی صورتحال کو اب خانہ جنگی کہا جانے لگا ہے۔

شام کی صورتحال کو اب خانہ جنگی کہا جانے لگا ہے۔

اس ہفتے اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا کہ شام کی صورتِ حال کو خانہ جنگی کہا جا سکتا ہے ۔ یہ وہی بات ہے جو کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ اور دوسرے سفارتکار کہتے رہے ہیں۔ کسی جھگڑے کو خانہ جنگی قرار دیے جانے کے بین الاقوامی سطح پر کیا قانونی اثرات ہو سکتے ہیں، اس بارے میں وائس آف امریکہ کی اقوامِ متحدہ کی نامہ نگار مارگریٹ بشیر کی رپورٹ۔

اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن کے سربراہ ہاروی لاڈسوؤس کے دو رپورٹروں کو کہے ہوئے الفاظ کی گونج ساری دنیا میں سنائی دی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب شام کی صورتِ حال کو خانہ جنگی یعنی سول وار کہا جاسکتا ہے ، تو انھوں نے جواب دیا، ہاں، ایسا کہنا صحیح ہو گا۔

گذشتہ ہفتے، اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مصالحت کنندہ کوفی عنان نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی۔’’تشدد جس حد تک پہنچ گیا ہے اور اس میں جو لوگ ملوث ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک طرح سے خانہ جنگی کی طرف جا رہے ہیں، اگر ہم وہاں پہلے ہی پہنچ نہیں گئے ہیں۔ اس با ت کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر یہ جھگڑا پوری طرح خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ ہمسایہ ملکوں تک نہ پھیلے ۔‘‘

گذشتہ بدھ کو امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ شام تیزی سے خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، جب کہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ لارینٹ فابیس نے کہا کہ اگر آپ اسے خانہ جنگی نہیں کہہ سکتے، تو پھر اس کے لیے کوئی دوسرے موزوں الفاظ نہیں ہیں۔

لیکن اگر دنیا اس 15 مہینے پرانے قضیے کو خانہ جنگی سمجھنے لگے، تو اس سے کیا تبدیلی آئے گی؟

جارج ٹاؤن یونیورسٹی لا سینٹر کے پروفیسر گیری سولس کہتے ہیں کہ سول وار قرار دیے جانے سے جنگی کارروائیوں پر جنیوا کنونشنوں کا اطلاق ہونے لگے گا، خاص طور سے ان حفاظتی اقدامات کا جو کامن آرٹیکل 3 میں دے ہوئے ہیں۔’’کامن آرٹیکل 3 میں ان لوگوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے جو جنگی کارروائیوں سے باہر ہیں، مثلاً ایسے سپاہی جنھوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، جو زخمی ہوگئے ہیں اور پکڑ لیے گئے ہیں،؛ سویلین آبادی کے لیے، اور ایسے لوگوں کے لیے جو جنگی کارروائیوں سے باہر ہیں۔ کامن آرٹیکل 3 میں بنیادی حفاظتی اقدامات بیان کیے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ اتنا اہم ہے ۔ لہٰذا یہ کہنے سے کہ خانہ جنگی ہو رہی ہے، یہ مطلب نکلتا ہے کہ اب کامن آرٹیکل 3 کا اطلاق ہوتا ہے، اور یہ بات ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو خانہ جنگی کا شکار ہوئے ہیں۔‘‘

لیکن سولس نے ایک بہت اہم شرط کا اضافہ کیا ہے’’تا ہم مسئلہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت کوئی ایسا ادارہ نہیں جس کا اختیار تمام ملک تسلیم کرتے ہوں، جو پورے وثوق اور اختیار سے یہ کہہ سکے کہ یہ خانہ جنگی ہے اور یہ خانہ جنگی نہیں ہے ۔ کوئی ایسا بین الاقوامی ادارہ موجود نہیں جس کی رائے کو ماننا سب پر لازم ہو کہ یہ واقعی خانہ جنگی ہے ۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو چاہئیے کہ وہ اقوامِ متحدہ اور دوسری تنظیموں جیسے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ذریعے ایک متحدہ اتفاق رائے کا نظام قائم کرے جس کے ذریعے کسی جھگڑے کو خانہ جنگی قرار دیا جا سکے۔

شام کی صورتِ حال کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتفاقِ رائے نہیں رہا ہے ۔ تشدد کو ختم کرنے کے لیے، روس اور چین کی طرف بین الاقوامی پابندیوں جیسے سخت اقدامات کی مزاحمت ہوتی رہی ہے ۔ لیکن کوفی عنان کی مصالحت کی کوششوں کی حمایت میں سلامتی کونسل متحد رہی ہے، اور اس نے لڑائی کی نگرانی کے لیے، متفقہ طور پر اقوامِ متحدہ کے 300 غیر مسلح مبصر روانہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس یا ICRC مسلح تصادموں کی وضاحت کے لیے سول وار یا خانہ جنگی کی اصطلاح استعمال نہیں کرتی ۔ وہ قانونی اصطلاح ، غیر بین الاقوامی مسلح تصادم، استعمال کرتی ہے ۔

ICRC کے مشرقِ وسطیٰ کے ترجمان حشام حسن کہتے ہیں کہ یہ جانچنے کے لیے کہ کسی تنازع کو غیر بین الااقوامی مسلح تصادم کہا جا سکتا ہے یا نہیں ICRC دو معیار استعمال کر تی ہے، لڑائی کی شدت اور مسلح گروپوں کی تنظیم۔’’ اگر ہم شدت پر نظر ڈالتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ جنگ میں کیا طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، اس میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کیا ہے، کس قسم کے ہتھیار استعمال کیے جا رہےہیں، یہ تمام چیزیں شدت کے پیمانے میں آتی ہیں۔ اور اگر ہم مسلح گروپوں کی تنظیم کی بات کریں، تو ہم جو سوال خود سے پوچھتے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا کوئی ایک مسلح گروپ ہے جو پورے ملک میں یا بعض علاقوں میں کسی ایک پُر عزم قیادت کے تحت سرگرم ہے؟‘‘

اپریل میں ICRC نے اندازہ لگایا کہ شام کے بعض حصوں میں غیر بین الاقوامی مسلح تصادم کی کیفیت موجود ہے، لیکن پورے ملک میں ایسی صورتِ حال نہیں ہے۔

حشام حسن کہتے ہیں’’اس بات کا تعین کرنا اہم کیوں ہے کہ کس قسم کی صورتِ حال موجود ہے؟ تا کہ یہ طے کیا جائے کن ضابطوں کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اور یہ بات کیوں اہم ہے کہ کن ضابطوںکا اطلاق ہونا چاہیئے؟ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جو لوگ مسلح تصادم سے متاثر ہوئے ہیں یا جن کے متاثر ہونے کا امکان ہے، انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے ۔ ICRC کی اس درجہ بندی کا یہی مقصد ہے ۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ ICRC نے شام کی حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو اپنے فیصلے سے مطلع کر دیا ہے اور انہیں بتا دیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قانون کے تحت ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ICRC کو تقریباً تمام علاقوں میں جو لڑائی سے متاثر ہوئے ہیں، رسائی حاصل ہے ۔

اقوامِ متحدہ نے اندازہ لگایا ہے کہ جب سے سرکاری فورسز نے گذشتہ سال کے احتجاجوں کو کچلنا شروع کیا ہے ، جن میں حزبِ اختلاف نے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا، اب تک 9,000 سے زیادہ شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور دوسری حکومتوں نے شام کے صدر بشا ر الاسد سے بار بار لڑائی بند کرنے اور اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG