رسائی کے لنکس

شام کی حکومت کے لیے وقت کم ہو رہا ہے، ہلری کلنٹن


امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن

امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کی افواج کے دستوں نے جنہیں ٹنکو ں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے، صوبہ اِدلب کے کئی دیہاتوں پر اپنا کنٹرول مضبوط بنالیا ہے

امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کےصدربشارالاسد کی سربراہی میں قائم حکومت کے ہاتھ سے پھسلتا جارہا ہے۔

انھوں نے یہ بات جمعہ کے روز لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیس میں 'کمیونیٹیز آف ڈیموکریسیز' کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

دریں اثناء شام کی انتظامیہ کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ تشدد کے تازہ سلسلے میں شام کی سکیورٹی فورسز نے ترکی کی سرحد سے ملحقہ شام کے شمال مغربی علاقے میں گزشتہ دو روز سے جاری فوجی کارروائی کے دوران 12 افراد کو قتل کردیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کی افواج کے دستوں نے، جنہیں ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے، صوبہ اِدلب کے کئی دیہاتوں پر اپنا کنٹرول مضبوط بنالیا ہے۔

حکومتی فورسز کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے فرار ہونے والے شام کے باشندوں کو ترکی میں داخل ہونے سے بھی روک رہی ہیں جہاں پہلے ہی 12 ہزار سے زائد شام کےپناہ گزین مقیم ہیں، جب کہ شام کےسینکڑوں باشندے لبنان کی جانب بھی ہجرت کرگئے ہیں۔

ترک حکام نے کہا کہ جمعرات کے روز شام کےصرف پانچ شہری سرحد عبور کرکے ترکی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جو حالیہ ایام کے دوران ترکی پہنچنے والے شام کے پناہ گزینوں کی سب سے کم تعداد ہے۔

دریں اثناء انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں جمعرات کے روز ملک کے دوسرے بڑے شہر الیپو کے کم از کم دو مقامات پر حکومت کے حامی گروہوں کو سینکڑوں مظاہرین پر حملے کرتے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نےمظاہرین کومنتشر کرکے حکومت کے حامیوں کو جوابی مظاہرہ کرنے کی اجازت دی۔

جمہوریت کے لیے سرگرم کارکنوں کے ایک گروپ نے 'فیس بک' کے ذریعے الیپو میں جمعرات کے روز حکومت مخالف مظاہروں کے انعقاد کی کال دی تھی۔ الیپو شام کا اہم تجارتی شہر ہے جہاں مقیم چھوٹے تاجروں کی آبادی کی اکثریت صدر بشار الاسد کی حمایتی ہے۔

رضاکاروں کے گروپ نے صدر الاسد کی اقتدار سے رخصتی کا مطالبہ کرتے ہوئے شام کے شہریوں سے جمعہ کے روز ملک بھر میں مظاہرے کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔

شام کی حکومت نے ملک میں بہت کم غیر ملکی صحافیوں کو داخلہ کی اجازت دے رکھی ہے جن کی نقل و حرکت کو بھی محدود کردیا گیا ہے جس کے باعث ملک کی داخلی صورتِ حال اور وہاں پیش آنے والے واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ شام میں گزشتہ تین ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران لگ بھگ 1400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کی اکثریت غیر مسلح مظاہرین پر مشتمل ہے۔

XS
SM
MD
LG