رسائی کے لنکس

شام کی ظالمانہ کارروائیوں پردنیا کاسخت ردِعمل سامنے آناچاہیئے: ہلری کلنٹن


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نےکہا ہے کہ عالمی طاقتوں کی طرف سے حکومتِ شام کوبتادینا چاہیئے کہ، اُن کے بقول، شہریوں پر کیے جانے والے ظالمانہ تشدد کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ جمعرات کو روم میں اٹلی کے وزیرِ خارجہ فرانکو فراٹینی سے ملاقات کے دوران شام کے خلاف ممکنہ تعزیرات پر گفتگو ہوئی ۔

حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں حکومت مخالف سرکشی کے دوران شام کی کارروائی کےباعث کم از کم 560شہری ہلاک ہوئے۔

شام کا کہنا ہے کہ اُس نے درعا شہر سے فوج کا مرحلہ وارانخلا شروع کردیا ہےجہاں سکیورٹی فورسز اور حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
جمعرات کو سرکاری خبر رساں ادارے ’سنا‘ نے ایک فوجی عہدےدار کے حوالے سےبتایا ہے کہ فوج نے، اُن کے بقول، جنوبی شہر میں مبینہ دہشت گردعناصرکو حراست میں لینےاورامن اور استحکام قائم کرنے کے اُن کے مشن کی تکمیل ہوگئی ہے۔

درعا کے دوعینی شاہدین نے رائٹرز نیوزایجنسی کو بتایا کہ اسلحہ لےجانےوالی گاڑیاں تقریبا ً 30ٹینک شہر سے شمال کی طرف لے جا رہی تھیں، لیکن شہر میں داخل ہونےوالےمتعدد مقامات پر فوجی دستے تعینات تھے۔

خبررساں ادارے نے درعا میں رہنے والے لوگوں کے حوالے سے کہا ہےکہ حکومت کی تنصیبات اورعوامی چوکوں پرکم از کم چھ ٹینک تعینات تھے، چھتوں پر نشانچی موجود تھے اور ہر 100میٹر کے بعد سکیورٹی کے ناکے لگے ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG