رسائی کے لنکس

شام کے صدر کو بھاری قیمت چکانا ہوگی: کلنٹن


شام کے صدر کو بھاری قیمت چکانا ہوگی: کلنٹن

شام کے صدر کو بھاری قیمت چکانا ہوگی: کلنٹن

تیونس میں ہونے والے مغربی اور عرب ممالک کے نمائندوں نے شامی حکام سے فوری طور پر تشدد روکنے اور امدادی اداروں کو تشدد کے شکار علاقوں تک امداد کی فراہمی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے

امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کو اپنے عوام کے حقوق پامال کرنے اور حزبِ اختلاف کے خلاف جاری کاروائیاں روکنے کی عالمی برادری کی خواہش کا احترام نہ کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

سیکریٹری کلنٹن نے یہ بات جمعہ کو تیونس میں شام کے بحران کے بارے میں ہونے والے ایک اجلاس میں کہی جس میں 70 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک تھے۔

تیونس کے دارالحکومت میں ہونے والے مغربی اور عرب ممالک کے نمائندوں کے اس اجلاس نے شامی حکام سے فوری طور پر پرتشدد کاروائیاں روکنے اور امدادی اداروں کو تشدد کا شکار علاقوں تک امدادی اشیا کی فراہمی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

'فرینڈز آف سیریا' کے نام سے ہونے اس اجلاس کے خلاف شامی صدر کے سینکڑوں حامیوں نے تیونس میں مظاہرہ کیا اور اس ہوٹل میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی جہاں اجلاس جاری تھا۔

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے سب سے بڑے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حیثم المالہ نے امید ظاہر کی ہے کہ تیونس میں ہونے والے اجلاس سے شامی انقلاب کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے شرکا بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کریں گےاور ان کی کونسل کو شامی انقلاب کے پیچھے کارفرما سیاسی قوت کی حیثیت سے تسلیم کرلیا جائے گا۔

دریں اثنا شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک کے وسطی شہر حمص میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے بابا امر پر سرکاری افواج کی بمباری کا سلسلہ جمعے کو بھی جاری ہے۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ جمعے کو ہونے والی بمباری کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حمص شام میں گزشتہ 11 ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کا گڑھ رہا ہے اور گزشتہ تین ہفتوں سے سرکاری افواج کے بےرحمانہ حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

شہر کے باسیوں کا کہنا ہے کہ شامی افواج کے محاصرے کے باعث شہر میں خوراک، پانی اور ادویہ کی قلت ہوگئی ہے۔

شامی افواج سے بغاوت کرنے والے سابق فوجیوں کی تنظیم 'فری سیرین آرمی' عالمی برادری سے ہتھیار فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خلاف تنظیم کی مسلح جدوجہد کو تیز کیا جاسکے۔

لیکن مغربی اور عرب ممالک اس خدشے کے پیشِ نظر تنظیم کا مطالبہ پورا کرنے سے ہچکچارہے ہیں کہ شام میں بیرونی مداخلت سے صورتِ حال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG