رسائی کے لنکس

شام میں بے دخل افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ


خانہ جنگی سے متاثرہ خاندانوں کے لیے قائم ایک عارضی کیمپ

خانہ جنگی سے متاثرہ خاندانوں کے لیے قائم ایک عارضی کیمپ

لاکھوں شامی اپنے ملک کی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ گئے ہیں اور ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہمسایہ ملکوں میں رہنے والے بہت سے لوگ حکومت کے مخالف ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

حالیہ مہینوں میں حکومت کی طرف سے ہوائی حملوں میں شہری آبادی کو خاص طور سے بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔

لیکن اپنی جان بچانے کے متلاشی سب ہی لوگ ملک نہیں چھوڑ سکتے اور بعض ملک چھوڑنا نہیں چاہتے۔

دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی دُومار میں بے گھر لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔

یہاں شام کے سب سے بڑے شہر حلب سے فرار ہو کر آنے والوں میں سے بہت سے لوگ کئی ہفتوں سے عارضی کیمپوں میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے تھے،مگر اب سرکاری رضاکار اُنھیں مدد فراہم کررہے ہیں۔
رضا کار محمد ترکمانی

رضا کار محمد ترکمانی


ایک عارضی کیمپ میں حلب کے ایک کارکن، محمد ترکمانی بتاتے ہیں کہ سرکاری فوجوں اور باغیوں کے درمیان گولیوں کے تبادلے میں وہ بھی زخمی ہوگئے تھے۔ اُنھوں نے اپنا کچلا ہوا پیر دکھایا جس پر اب عارضی پٹی بندھی ہوئی تھی۔

’’جنگی ہوائی جہازوں نے ہمارے علاقے میں مسلح افراد کے گروپوں کو دیکھا، اور ان کے گھر کے نزدیک گولے برسانا شروع کر دیے ۔ بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے۔‘‘

شامی حکومت جس کی فوجوں نے ان کے شہر پر حملہ کیا تھا، اب ترکمانی اور اُن جیسے دیگر بے دخل افراد کوطبی امداد، کھانے، لباس اور رہائش کی بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔

اگرچہ لڑائی نے حلب کو اور ملک بھر کے شہروں اور قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، لیکن عارضی کیمپوں میں مقیم بعض لوگ پُر اعتماد ہیں کہ حالات حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں مصروف رضاکار صافی آیوش شامی ہیں لیکن آسٹریلیا کے شہری ہیں ۔

’’آسٹریلیا میں میرے بہت سے دوست ہیں جو کہتےہیں کہ تم وہاں کیوں رہ رہے ہو۔ ملک چھوڑ دو۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہاں کوئی خطرہ نہیں۔ میں یہیں رہتا ہوں، بلکہ دو مہینے پہلے میری شادی بھی یہیں ہوئی ہے۔‘‘

آیوش کی پیشگوئی ہے کہ صدر اسد اگلا انتخاب جیت لیں گے۔ لیکن رضاکارنِصرت ابوود نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو حزبِ اختلاف کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہیئے اور شام کے لیے کام کرنا چاہیئے، کسی ایک فرد کے لیے نہیں۔

’’یہ میرا فرض ہے۔ جب میں رضاکار کی حیثیت سے کام کرتا ہوں، تو میرافرض ہے کہ میں شام کے تمام لوگوں کی مدد کروں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میری ٹی شرٹ پر صدر کی تصویر نہیں ہے، بلکہ صرف شام کا نقشہ ہے۔‘‘

بعض لوگ کہتے ہیں کہ مصالحت ابھی بہت دور کی بات ہو سکتی ہے، لیکن تبدیلی اتنی دور نہیں۔

ریسرچر بسام ابو عبداللہ حکمراں بعث پارٹی کے رکن اور دارالحکومت میں ایک نجی سیاسی ریسرچ سینٹر چلاتے ہیں۔

’’میرا خیال ہے کہ ہم ایک اور شام دیکھیں گے۔ جب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ حکومت ختم ہو جانی چاہیئے ، تو پھر یہ حکومت ختم ہو چکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پارٹی غلطی پر ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ اس نظام کو قائم نہیں رکھا جا سکتا۔
XS
SM
MD
LG