رسائی کے لنکس

'مخالفین کے خلاف شام حکومت کی کاروائی انسانیت کے خلاف ممکنہ جرم'


'مخالفین کے خلاف شام حکومت کی کاروائی انسانیت کے خلاف ممکنہ جرم'

'مخالفین کے خلاف شام حکومت کی کاروائی انسانیت کے خلاف ممکنہ جرم'

انسانی حقوق کی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے کہا ہے کہ لبنا ن کی سرحد کے نزدیک واقع ایک قصبہ میں کی گئی کارروائی کے دوران سرکاری سیکیورٹی فورسز ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب ہوئی ہیں۔

تنظیم کے لندن میں واقع مرکزی دفتر سے بدھ کے روز جاری کی گئی ایک رپورٹ میں شام کی سیکیورٹی فورسز پر تلخالخ نامی قصبہ کے کئی رہائشی مردوں کو جمع کرنے اور ان میں سے اکثر کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں عینی شاہدین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم نو افراد دورانِ حراست ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کارروائی "شہری آبادی کے خلاف جاری وسیع اور منظم حملے" کی ایک کڑی ہے جسے انسانیت کے خلاف جرم میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ تنظیم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی عدالت برائے جرائم کو شام کی صورتِ حال کا نوٹس لینے کو کہے۔

اس سے قبل منگل کے روز سرکاری دستوں نے ملک کے وسطی شہر حما میں شہریوں پر فائر کھول دیا تھا جس سے 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی اہلکار ممکنہ آپریشن کی تیاریوں کے سلسلے میں ٹینکوں کو شہر کے مضافات میں تعینات کر رہے تھے۔

فوجیوں کی جانب سے کسی کارروائی کے خدشہ کے تحت حما کے رہائشیوں نے شہر کے گرد تعینات ٹینکوں کے شہر میں داخلے کو روکنے کی غرض سے راستوں پہ رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔ حما کے باسیوں کی جانب سے شہر کے داخلی راستوں پر ٹائر اور دیگر اشیاء کو آگ بھی لگائی گئی جبکہ فوجی گاڑیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے کئی سڑکوں پر ریت کے ڈھیر لگا دیے ہیں۔

سرکاری فورسز نے منگل کے روز شمال مغربی صوبہ اِدلب میں بھی دوسری بڑی کارروائی کا آغاز کیا۔

امریکہ اور برطانیہ نے شام پر زور دیا ہے کہ وہ حما اور دیگر شہروں سے فوری طور پر اپنے فوجی واپس بلائے۔ واضح رہے کہ حما شہر شام کے صدر بشار الاسد کے 11 سالہ مطلق العنان حکمرانی کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کا ایک اہم مرکز ہے جہاں گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والی ایک بڑی حکومت مخالف ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔

XS
SM
MD
LG