رسائی کے لنکس

شام: مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری


لتاکیہ شہر کا ایک منظر

لتاکیہ شہر کا ایک منظر

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے ساحلی شہر لتاکیہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہے جس کے دوران پیر کو مزید ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

شہر کے کئی نواحی علاقوں پر سرکاری ٹینکوں کی جانب سے بمباری کیے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رہائشی شہر سے فرار ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں اور عینی شاہدین کے مطابق سمندر کی جانب سے جنگی کشتیوں اور زمینی راستے سے ٹینکوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں کے ذریعے شہر کے ساحلی علاقوں پر کیے گئے شامی فوج کے حملوں میں ہفتہ اور اتوار کو کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ حملے لتاکیہ اور ملک کے کئی شہروں میں جمعہ کو ہونے والے نئے مظاہروں کے بعد کیے گئے جن میں ہزاروں حکومت مخالفین نے جمع ہوکر صدر بشار الاسد کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

دریں اثناء سیاسی کارکنو ں کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج نے ٹینکوں کی مدد سے ملک کے اہم وسطی شہر حمص کے نزدیکی قصبہ حولہ میں چھاپے مار کر کئی افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ادھر شامی حکومت نے لتاکیہ میں پیش آنے والے واقعات کی ایک اور توجیہہ پیش کی ہے۔ اتوار کو سرکاری خبر رساں ایجنسی 'صنعاء' سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہر میں رہائشیوں کو "خوف زدہ کرنے والے" بھاری ہتھیاروں سے مسلح افراد کا تعاقب کر رہے ہیں۔

حکومت نے ملک میں ہونے والے بیشتر پر تشدد واقعات کی ذمہ داری "مسلح گروہوں" اور "دہشت گردوں" پر عائد کی ہے۔

حکومت مخالفین کے خلاف جاری پرتشدد کریک ڈاؤن پر صدر بشار الاسد کی حکومت کو عالمی برادری میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا یک اہم اجلاس بھی رواں ہفتے ہونے جارہا ہے جس میں شامی حکومت کے خلاف مزید کارروائی کرنے پر غور کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG