رسائی کے لنکس

برطانیہ کی اپنے شہریوں کو شام چھوڑنے کی ہدایت


تقریباً دس ہزار شامی باشندے ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئےہیں

تقریباً دس ہزار شامی باشندے ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئےہیں

شامی فورسز کی کارروائیوں کے خوف سے تقریباً دس ہزار افراد سرحد پار کرکے ترکی میں پناہ لے چکے ہیں اور وہاں ایک بڑے علاقے میں ان کے سفید خیمے دکھائی دے رہے ہیں۔

برطانیہ کے وزارت خارجہ نے شام میں موجود اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ ملک کی خراب ہوتی ہوئی سیاسی صورت حال کے پیش نظر وہ فوراً شام چھوڑ دیں۔

ہفتے کے روز سفر سے متعلق جاری ہونے والی ہدایت میں برطانوی عہدے داروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام کی صورت حال مزید بگڑتی ہے تو دمشق میں موجود برطانوی سفارت خانے کے لیے اپنے شہریوں کی مدد کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

شام کی سرکاری فوجوں نے حکومت مخالفین کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرے میں توسیع کرتے ہوئے ترکی کی سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں پر دھاوا بولا ۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور عینی شاہدوں کا کہناہے فوجیوں نے مشین گنوں سے فائرنگ کی اور کم ازکم 70 افراد کو حراست میں لے لیا۔عینی شاہدوں کا کہناہے کہ فوجیوں نے کم ازکم دوگھروں کو نذرآتش کردیا۔

شامی فوجیوں کی اس کارروائی ایک روز قبل ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں حکومت مخالف مظاہروں پر ، جن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سےکم ازکم 19 مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔

بداما ترکی کی سرحد سے بہت تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔ لندن میں قائم انسانی حقوق کی نگراں شامی تنظیم کے کارکن کا کہنا ہے کہ بداما قصبے کے لوگ ترکی میں پناہ لینے والے شامی مہاجرین کو رسد مہیا کررہے تھے۔

شامی فورسز کی کارروائیوں کے خوف سے تقریباً دس ہزار افراد سرحد پار کرکے ترکی میں پناہ لے چکے ہیں اور وہاں ایک بڑے علاقے میں ان کے سفید خیمے دکھائی دے رہے ہیں۔

زیادہ تر شامی باشندے صدر بشارالاسد کی فورسز کی جانب سے حکومت مخالفین پر تین ماہ سے جاری پکڑدھکڑ سے بچنے کے لیے جنوبی سرحد کے قریب واقع ترک قصبوں کی طرف فرار ہوچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور عینی شاہدین کا کہناہے کہ مارچ کے وسط سے شروع ہونے والی عوامی بیداری کی لہر میں اب تک 1400 سے زیادہ افراد ہلاک اور دس ہزار سے زیادہ کو گرفتار کیا جاچکاہے۔

XS
SM
MD
LG