رسائی کے لنکس

شام: امریکہ پر شدت پسندوں سے متعلق ’دوغلی پالیسی‘ کا الزام


شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے پیر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کیا

شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے پیر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کیا

اپنے خطاب میں شامی وزیرِ خارجہ نے اپنے ملک کی حدود میں شدت پسند باغیوں پر امریکی حملوں کی کھل کر مخالفت یا مذمت کرنے سے گریز کیا۔

شام کی حکومت نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے شام میں شدت پسندوں سے متعلق ’دوغلی پالیسی‘ اپنا رکھی ہے ۔

پیر کو جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے کہا کہ ان کی حکومت شدت پسند گروہ 'دولتِ اسلامیہ' کےخلاف عالمی برادری کی کوششوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے لیکن امریکہ کو اپنی دوغلی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک جانب تو شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں پر بم برسا رہا ہے تو دوسری جانب دیگر باغی گروہوں کی مد دکر رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ کی اپنی دانست میں "معتدل گروہوں" کو مدد دینے کی یہ پالیسی خطے میں شدت پسندی کے مسلسل فروغ کے لیے زمین ہموار کر رہی ہے۔

اپنے خطاب میں شامی وزیرِ خارجہ نے اپنے ملک کی حدود میں شدت پسند باغیوں پر امریکی حملوں کی مخالفت یا مذمت سے گریز کیا۔

لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے باوجود اگر بعض ملکوں نے شدت پسندوں کی مدد جاری رکھی تو دنیا آئندہ کئی برسوں میں بھی اس بحران پر قابو نہیں پاسکے گی۔

قیاس ہے کہ ولید المعلم کا اشارہ ترکی، قطر اور سعودی عرب کی طرف تھا جن پر شامی حکومت اسلام پسند باغیوں کی مدد کا الزام عائد کرتی ہے۔ تاہم یہ تینوں ملک اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

شامی وزیرِ خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب شام میں جاری خانہ جنگی کو ساڑھے تین سال گزر چکے ہیں اور وہاں کے ایک بڑے علاقے پر قابض شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے جاری ہیں۔

دریں اثنا ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے شہر کوبان کے دفاع پر مامور کرد ملیشیائوں اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں کے درمیان جھڑپیں پیر کو بھی جاری رہیں۔

ان جھڑپوں کو باعث اس کرد اکثریتی شہر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں سے ایک لاکھ سے زائد شامی باشندے ترکی میں پناہ لے چکےہیں جب کہ سرحد کے نزدیک ہونے والی لڑائی کے سبب ترکی نے بھی اپنی سرحد پر حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کردیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی طیارے عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اتوار اور پیر کو امریکی جنگی طیاروں نے شام کے علاقوں حلب، رقہ، منبِج اور دیر الزور میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں، گاڑیوں اور مورچوں پر بم برسائے۔

XS
SM
MD
LG