رسائی کے لنکس

داعش دابق سے بے دخل، قصبہ شامی باغیوں کے کنٹرول میں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ترکی کے حمایت یافتہ شامی حزب مخالف کی فورسز نے شمالی علاقے دابق کا قبضہ داعش سے چھڑوا لیا ہے۔

اتوار کو حزب مخالف کی فورسز کے حمزہ بریگیڈ کے ایک کمانڈر سیف ابوبکر نے بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں کی طرف سے اس لڑائی میں بہت ہی کم مزاحمت دیکھنے میں آئی اور شدت پسند جنوب کی طرف اپنے زیر قبضہ علاقے الباب کی طرف پسپا ہو گئے۔

ان کے بقول حزب مخالف کے تقریباً دو ہزار جنگجوؤں نے ترک فوج کی حمایت سے ٹینک اور توپ خانے کے ہمراہ دابق کا قبضہ واگزار کروانے کی کارروائی میں حصہ لیا۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق ترکی اور اتحادی افواج کی فضائیہ نے دابق اور اس کے قریبی علاقوں پر بمباری بھی کی۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی تصدیق کی ہے کہ داعش کے جنگجو دابق سے نکل گئے ہیں۔

یہ قصبہ داعش کے لیے خاصی اہمیت کا حامل تھا۔ شدت پسند گروپ نے اپنے انگریزی رسالے کا نام بھی دابق رکھا ہوا ہے۔

ترک سرحد سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سے داعش کی بے دخلی کو شدت پسندوں کے خلاف اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ترکی نے رواں سال اگست میں سرحد پار شام میں اپنے ٹینک داخل کیے تھے جس کے بعد سے یہ خاص طور پر سرحدی علاقوں میں داعش کے اہداف کے خلاف کارروائیاں کرتا چلا آ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG