رسائی کے لنکس

درعا میں فوجی کارروائی جلد ختم کردی جائے گی: صدر بشارالاسد


درعا میں فوجی کارروائی جلد ختم کردی جائے گی: صدر بشارالاسد

درعا میں فوجی کارروائی جلد ختم کردی جائے گی: صدر بشارالاسد

مشرق وسطیٰ کے ایک اخبار کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد نے کہاہے کہ جنوبی شہر درعا میں، جسے حالیہ حکومت مخالف تحریک میں ایک مرکز کی حیثیت حاصل ہے، جاری فوجی کارروائی جلد ختم ہوجائے گی۔

اخبار الوطن کی بدھ کی اشاعت میں شامی صدر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فوج نے ملک میں اصلاحات ، تعمیر وترقی اور صدر کی برطرفی کے لیے عوامی مظاہروں کے بعد 25 اپریل سے درعا کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

شام کی سیکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے حالیہ دنوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے ، جب کہ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر مسٹر اسد کی حکومت کے خلاف تنقید میں اضافہ ہورہاہے۔

شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ عمر کرابی نے منگل کے روز کہا کہ شہری علاقوں میں حکام بڑے پیمانے پر لوگوں کو پکڑ رہے ہیں اور ہر ایسے شخص کو پکڑ لیا جاتا ہے جس کےبارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ مظاہرے میں حصہ لے سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی دوسری تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل شامل ہے، سیکیورٹی فورسز پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے پکڑدھکڑ کی اپنی مہم کے دوران زیر حراست مردوں، خواتین، بچوں اور بوڑھے افراد تک کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ منگل کے روز سینکڑوں افراد پر ملک کے وقار کو نقصان پہنچانے کےالزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس جرم کے تحت تین سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک ملک میں 560 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ شام میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے داخلے پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ سے رپورٹوں کی تصدیق ایک مشکل امر بن چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG