رسائی کے لنکس

شام کی حکومت سے منحرف ہونے والے اعلیٰ عہدے دار

  • واشنگٹن

شام کے منحرف وزیر آعظم ریاض حجاب

شام کے منحرف وزیر آعظم ریاض حجاب

صدر بشارالاسد کی حکومت سے انحراف کے تازہ ترین واقعہ میں شام کے وزیر اعظم حکومت سے لاتعلقی کا اعلان کرکے اپنے خاندان سمیت بیرون ملک چلے گئے ہیں

شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف گذشتہ 17 ماہ سے جاری تحریک کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور ملک کے مختلف حصوں میں باغیوں اور صدر کی وفادار فوج کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات بڑھ گئے ہیں، جس سے عام شہری بڑی تعداد میں ہلاک ہورہے ہیں جسے دنیا بھر میں تشویش کی نظر سے دیکھا جارہاہے۔

دوسری جانب اہم حکومتی عہدوں پرفائز افراد میں بددلی پھیل رہی ہے اور وہ صدر اسد کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ ایک ایسے تازہ ترین واقعہ میں شام کے وزیر اعظم حکومت سے لاتعلقی کا اعلان کرکے اپنے خاندان سمیت بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

لیکن یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں ہے ۔ 11 جولائی کو عراق میں شام کے سفیر نواف فارس صدربشار الاسد کا ساتھ چھوڑنے والے پہلے اعلیٰ سفارتی عہدے دار تھے۔

6 جولائی کو بریگیڈیر جنرل مناف طلاس فوج سے بغاوت کرکے باغیوں سے مل جانے والے پہلے اعلیٰ فوجی عہدے دار بنے۔

اس سے قبل جون کے دوران مگ طیارے کے پائلٹ کرنل حسن ممدہ جو ایک تربیتی مشن پر لڑاکا مگ21 اڑا رہے تھے، بغاوت کرکے طیارے سمیت اردن میں اتر گئے جہاں انہیں سیاسی پناہ دے دی گئی۔

شام کی پارلیمنٹ کے ایک رکن عماد غلیون ، حکومت مخالفین کےساتھ شامل ہونے کے لیے اس سال جنوری میں ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

حمص شہر کے سابق اٹارنی جنرل عدنان بکر نے گذشتہ سال اگست کے آخر میں منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں اپنے منحرف ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ فوجی اور سویلین چھوٹے عہدے داروں کی ایک بڑی تعداد حکومت کاساتھ چھوڑ کرجاچکی ہے۔
XS
SM
MD
LG