رسائی کے لنکس

امدادی کیمپ کی ’زندگی بہت مشکل ہے‘

  • اسکاٹ باب

شام میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے ترکی کے باب السلامہ کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ شام میں جنگ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تقریباً سات لاکھ افراد نے ہمسایہ ملکوں میں پناہ لی ہے اور اندازاً بیس لاکھ شام کے اندر اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور انتہائی خراب اور مایوس کن حالات میں زندگی گذار رہےہیں۔

باب السلامہ کیمپ میں یہ سردیوں کا ایک عام دن ہے۔ خیموں کے اس شہر میں جنگ سے بے گھر ہونے والے ، 10,000 سے زیادہ لوگ زندہ رہنے کی جد و جہد میں مصروف ہیں۔ گذشتہ تین مہینوں میں اس کیمپ کی آبادی دگنی ہو گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شامی حکومت کی فوجیں مسلسل بم برساتی رہتی ہیں ۔

ان میں سے بیشتر لوگ ہمسایہ ملک ترکی میں زیادہ محفوظ جگہ ملنے کے منتظر ہیں ۔ ترکی میں پہلے ہی تقریباً 200,000 شامیوں نے پناہ لے رکھی ہے ۔ ترک حکام ہر چند روز بعد، مزید چند سو پناہ گزینوں کو آنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

امّ ِ احمد، ایک مہینہ قبل ازاز کے قصبے سے فرار ہو کر اپنے نو بچوں کے ساتھ یہاں آئی تھیں ۔ ان کا اصل نام امِ احمد نہیں کچھ اور ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں زندگی بڑی مشکل ہے ۔’’یہاں ہمیں بھوکا رہنا پڑتا ہے ۔ ہمیں روٹی بھی نصیب نہیں ۔ جو امداد آتی ہے وہ ہم تک نہیں پہنچتی ۔ یہاں کوئی طبی سہولتیں نہیں ہیں۔ صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ غرض یہ کہ زندگی بڑی مشکل ہے ۔‘‘

کیمپ کا ایک منظر

کیمپ کا ایک منظر

ترکی کا ایک امدادی گروپ یہاں کھانا فراہم کرتا ہے لیکن یہاں رہنے والے کہتے ہیں کہ کھانا بالکل نا کافی ہوتا ہے ۔ بہت سے لوگ غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ پانی کی فراہمی اور صفائی کے انتظامات ناقص ہیں ۔ بعض دواؤں کی سخت قلت ہے ۔

رات کے وقت درجۂ حرارت نقطۂ انجماد تک گر جاتا ہے ۔ بعض لوگوں کے پاس ہیٹنگ اسٹوو ہیں لیکن اکثر لوگوں کے پاس یہ بھی نہیں ہیں ۔

جلانے کی لکڑی بھی دستیاب نہیں ہے، لہٰذا یہاں رہنے والے کوڑا کرکٹ جلا کر گرم رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دھویں کی وجہ سے صحت کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

محمد رامی ایک تاجر ہیں جو چار مہینے قبل حلب سے فرار ہو کر یہاں پہنچے تھے۔ وہ پانی کی نکاسی کے گڑھے کھودتے ہیں اور اس کے عوض انہیں سات ڈالر روزانہ ملتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں’’میں بارش کا پانی ہٹانے کے لیے گڑھے کھودتا ہوں۔ اس سے پہلے تو یہ جگہ ایک جھیل کی مانند تھی ۔ لیکن اب بھی کیچڑ ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘

عطمت حطیب یہاں سات مہینے تک رہتے رہے۔ آخر انھوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے گھر کے دس لوگوں کے لیے خیمہ بنائیں۔ ان کا خیال ہے کہ شام کے صدر بشا ر الاسد اور فری سیرین آرمی کے باغیوں کے درمیان جنگ بہت طویل ہو گی اور لوگ اسی طرح مرتے رہیں گے۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اس جنگ میں دو سا ل کے اندر تقریباً 70,000 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں ۔

جیسے ہی بشار الاسد کا تختہ الٹے گا، سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے ۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، کوئی واپس نہیں جائے گا۔
جب تک جنگ جاری رہے گی، شام کے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ان کیمپوں میں پناہ لیتے رہیں گے ۔
XS
SM
MD
LG