رسائی کے لنکس

شام: پرتشدد واقعات میں مزید درجنوں افراد ہلاک


صدر اسد اور روس کے خلاف ادلب میں ہونے والا احتجاجی مظاہرہ

صدر اسد اور روس کے خلاف ادلب میں ہونے والا احتجاجی مظاہرہ

شام میں موجود عرب لیگ کے مبصر مشن کے سربراہ نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عینی شاہدین کے مطابق منگل سے ملک بھر میں، بالخصوص حمص، حما اور ادلب کے شہروں میں پرتشدد واقعات میں شدت آگئی ہے

شام میں جاری پرتشدد واقعات میں جمعے کو مزید کئی افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد حالیہ چند روز کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 70 ہوگئی ہے۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جمعے کو ملک کے مختلف علاقوں میں سرکاری سیکیورٹی فورسز کے تشدد سے 37 افراد ہلاک ہوئے۔

ایک شامی سیاسی کارکن رمی عبدالرحمن نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ جمعہ کو شمال مغربی شہر اِدلب میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں سیکیورٹی فورسز کے چھ اہلکار بھی مارے گئے۔

شام کے صدر بشار الاسد کی حامی افواج کی جانب سے احتجاجی تحریک کے مرکزی شہر حمص پر حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔

شام میں موجود عرب لیگ کے مبصر مشن کے سربراہ نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عینی شاہدین کے مطابق منگل سے ملک بھر میں، بالخصوص حمص، حما اور ادلب کے شہروں میں پرتشدد واقعات میں شدت آگئی ہے ۔

ادھر صدر بشار الاسد کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کا دائرہ شام سے نکل کر دیگر عرب ممالک تک پھیل گیا ہے اور جمعے کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مقیم کئی درجن شامی باشندوں نے اپنے ملک کے سفارت خانے پر دورانِ احتجاج ہلہ بول دیا۔

صدر الاسد کے مخالف مظاہرین پولیس کو دھکیلتے ہوئے سفارت خانے کے انتظامی دفاتر میں داخل ہوگئے اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔

دریں اثنا شام کی صورتِ حال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس جمعے کی شام منعقد ہورہا ہے جس میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف پرتشدد کاروائیاں نہ روکے جانے پر صدر الاسد کی حکومت کے خلاف قرارداد پر اتفاقِ رائے کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔

سلامتی کونسل گزشتہ کئی ماہ سے شام کے بحران پر کوئی واضح موقف اپنانے میں ناکام رہی ہے کیوں کہ کونسل کے دو مستقل اراکین روس اور چین دمشق حکومت کے خلاف سخت لب و لہجے کی حامل کسی بھی قرارداد کی سختی سے مخالفت کررہے ہیں۔

اجلاس سے قبل جمعے کو روس کے نائب وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کا ملک شام کے مسئلے پر مغربی اور عرب ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی جانے والی نئی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا کیوں کہ، ان کے بقول، قرارداد میں شام کے معاملے پر روسی موقف کی پذیرائی نہیں کی گئی۔

روسی خبر رساں ایجنسی 'اتارطاس' کے مطابق نائب وزیرِ خارجہ جیناڈی گیٹلووف نے کہا ہے کہ روس کو خدشہ ہے کہ قرارداد میں شام میں براہِ راست مداخلت کے امکان کو واضح طور پر رد نہیں کیا جائے گا۔

مجوزہ قرارداد میں عرب لیگ کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے کی حمایت کی گئی ہے جس میں صدر الاسد سے اقتدار اپنے نائب کے سپرد کرکے دستبردار ہونےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔

منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ شام میں فوری طور پر قومی حکومت تشکیل دی جائے جو دو ماہ میں انتخابات کراکے اقتدار منتخب نمائندوں کو سونپ دے۔

امکان ہے کہ عرب ممالک کی 22 رکنی تنظیم اپنا یہ منصوبہ آئندہ ہفتے باضابطہ طور پر سلامتی کونسل کو پیش کرے گی جس کے بعد اسے رائے شماری کے لیے قرارداد کی صورت میں کونسل کے روبرو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے 'یونیسیف' نے کہا ہے کہ شام میں گزشتہ 10 ماہ سے جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک اور اسے دبانے کے پرتشدد ہتھکنڈوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 384 بچے بھی شامل ہیں۔

'یونیسیف' کی قائم مقام نائب سربراہ ریما صلاح نے جمعہ کو جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ برس مارچ میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے دوران اب تک 380 بچوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے جن میں سے کئی کی عمریں 14 سال سے بھی کم ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ برس مارچ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار کے نزدیک پہنچ چکی ہے۔

تاہم شامی حکومت بیشتر ہلاکتوں کی ذمہ داری مسلح دہشت گردوں پر عائد کرتی ہے جنہوں نے حکام کے بقول حالیہ شورش کے دوران دو ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی ہلاک کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG