رسائی کے لنکس

شام کے سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ حکومت مخالف قصبوں اور دیہاتوں میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر حکومت کے زیر نگرانی ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔

حزب اختلاف کی بڑی پارٹیاں پیر کے انتخابات کو پہلے ہی شرم ناک قرار دے چکی ہیں۔

سرگرم کا رکنوں کا کہناہے کہ حکومت مخالفین کے اہم مرکز اور وسطی شہر حما میں انتخاب کے دن سڑکیں ویران اور دکانیں بند تھیں اور لوگوں نے پیر کو ووٹنگ کے خلاف حزب اختلاف کی جانب سے عام ہڑتال میں حصہ لیا۔

پیر کے پارلیمانی انتخابات صدر بشار الاسد کی جانب سے، جن کا خاندان 1970ء کے عشرے سے برسراقتدارہے، یہ ظاہر کرنے کی آخری کوشش تھی کہ ملک میں جمہوری اصلاحات کا عمل جاری ہے۔

جب کہ دوسری جانب ملک کے اندر اور باہر موجود حزب اختلاف کے اہم گروپوں نے انتخابات کو یہ کہتے ہوئے دھوکہ قرار دیا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب صدر بشارالاسد کی فورسز پکڑ دھکڑ کی ہلاکت خیز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں دارالحکومت دمشق اور کئی دوسرے مقامات پر لوگوں کو ووٹ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ان انتخابات میں 250 نشستوں کے لیے 7000 سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔

اب تک کئی عشروں سے مسٹر اسد کی بعث پارٹی کا اتحادپارلیمنٹ میں اقتدار میں رہا ہے، لیکن فروری میں ریفرنڈم کے ذریعے نافذ کیے جانے والے نئے آئین میں سیاسی پارٹیوں کے قیام کی اجازت دی گئی ہے۔حکومت کا کہناہے کہ کم ازکم سات نئی سیاسی جماعتیں انتخابات میں بعث پارٹی کے اتحاد نیشنل پراگریسو فرنٹ کا مقابلہ کررہی ہیں۔

دمشق میں کئی ووٹروں نے کہا ہے کہ ووٹ دینا ان کا فریضہ ہے اور انہوں نے الیکشن کے نتیجے میں تبدیلی آنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

XS
SM
MD
LG