رسائی کے لنکس

شام میں ایمرجنسی اُٹھالی گئی


شام میں ایمرجنسی اُٹھالی گئی

شام میں ایمرجنسی اُٹھالی گئی

حکومتِ شام نے منگل کو ایک بل منظور کرتے ہوئے ملک میں نافذ تقریباً 50سالہ ہنگامی حالت کو ختم کردیا ہے،جو احتجاج کرنے والے مظاہرین کا ایک کلیدی مطالبہ رہا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے ’سانا‘ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ شام اپنی سکیورٹی سے متعلق عدالت کو بھی تحلیل کررہا ہے جو سیاسی قیدیوں پر مقدمے چلایا کرتی تھی، اور ایک اور بِل منظور کیا جس کے تحت پُر امن مظاہروں کی اجازت دی گئی ہے۔

بِل کی منظوری کے باوجود شامی حکام نے منگل کو حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کے باعث کئی ہفتوں سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوچکاہے۔

رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کی رو سے مظاہرہ کرنے سے قبل وزارتِ داخلہ سے پیشگی اجازت لینا پڑے گی۔
اِس سے قبل منگل کو وزارتِ داخلہ نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ کسی احتجاجی مظاہرے، مارچ یا دھرنے میں حصہ لینے سے احتراز کریں۔

ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق شام کے قانون میں مظاہروں پر پابندی تھی، ابلاغ پر قدغنیں عائد تھیں اور خفیہ سُن گُن کی اجازت تھی۔

صدر بشار الاسد نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ 48برس پرانے قانون کو اُٹھایا جائے گا۔ نئی قانون سازی پر عمل درآمد کے لیے لازم ہے کہ مسٹر اسد نئے بل پر دستخط کرکے اِسے قانون کا درجہ دیں۔

XS
SM
MD
LG