رسائی کے لنکس

یورپی یونین شامی راہنماؤں پرپابندیاں لگائے: فرانس اور جرمنی


یورپی یونین شامی راہنماؤں پرپابندیاں لگائے: فرانس اور جرمنی

یورپی یونین شامی راہنماؤں پرپابندیاں لگائے: فرانس اور جرمنی

فرانس اور جرمنی نےحکومت مخالف مظاہرین کی پرتشدد پکڑ دھکڑ کے خلاف یورپی یونین سے شام کے راہنماؤں پرپابندیاں عائد کرنے کے لیے کہاہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ایلین جوپے نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک شام کے صدر بشارالاسد پر پابندیوں کا نفاذ چاہتا ہے۔ جرمنی کے نائب وزیر خارجہ ورنر ہوئر کا کہناتھا کہ شامی حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں کے بعد یورپی یونین کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ کوئی قدم اٹھائے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہاہے کہ شام کے حکام ہفتے کے روز سے ملک بھر میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کرچکے ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں کم ازکم 560 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے شام پر زور دیا کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں اور تشدد سے زخمی ہونے والے افراد تک رسائی کی اجازت دے۔

منگل کے روز امدادی تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ صورت حال مزید خراب ہونے سے مزید ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔

ریڈکراس کے ترجمان ہاشم حسین نے کہا کہ انہیں خصوصاً جنوبی شہر درعا میں زخمی افراد تک رسائی کی اجازت فراہم کی جائے۔

عینی شاہدین کا کہناہے کہ اتوار کے روز درعا میں نئے فوجی دستے داخل کر وہاں پہلے سے موجود ہزاروں فوجیوں کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔ شہر میں ایندھن ، پانی، بجلی اور آمدورفت کے ذرائع کو بری طرح نقصان پہنچ چکاہے اور خوراک کی شدید قلت ہے۔

شام نے تقریباً تمام غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے داخلے پر پابندی لگارکھی ہے جس سے مصدقہ خبروں کا حصول ناممکن ہوچکاہے۔

XS
SM
MD
LG