رسائی کے لنکس

شام: شدید لڑائی جاری، پناہ گزینوں کی حالت زار


ادلب میں قائم کیا گیا پناہ گزینوں کا کیمپ

ادلب میں قائم کیا گیا پناہ گزینوں کا کیمپ

پناہ گزینوں سےمتعلق اقوام متحدہ کے کمشنر کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعدسے شامی پناہ گزینوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے، جو چار لاکھ 42000تک پہنچ چکی ہے، لیکن شام کے وہ متعدد افراد جنھوں نے امدادی اداروں کے پاس اپنا اندراج نہیں کرایا، اِس میں شامل نہیں ہیں

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز شامی حکومت کےجنگی طیاروں نے ملک کے شمالی علاقے میں ادلب شہر کے قریب واقع زیتون کےایک کارخانے کو ہدف بنایا، جس واقع میں کم از کم 20افراد ہلاک ہوئے۔ اُنھوں نے بتایا کہ درجنوں دیگر افراد زخمی ہوئے۔

منگل کو جاری ہونے والی ایک وڈیو میں شام اور ترکی کی سرحد پر حکومت کی طرف سے کیے گئے فضائی حملے کے نتیجے میں باب الہوا کے علاقے میں پناہ گزیں خیمےکو پہنچنے والےنقصان کو دکھایا گیا ہے۔ فوری طور پر زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

سیرئین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال مارچ کے مہینے میں جب سے صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوا، ملک بھر میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں اب تک 40000سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اِس خوف کا اظہار کیا ہے کہ اِس بحران کے باعث حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

انسانی ہمدردی سے متعلق امور کے بارے میں اقوام متحدہ کے معاون سکریٹری جنرل، ولیری اموس نےمنگل کے روز اردن میں زاتری پناہ گزیں کیمپ کا دورہ کیا جو شام کی سرحد کےپاس واقع ہے، اور اِس موقع پر پناہ گزیں اور اُن کےبچوں سے گفتگو کی۔

اموس نے صورتِ حال کو ’بھیانک‘ قرار دیا۔

ولیری اموس کے بقول، اس کیمپ میں پہلے ہی 30000سے زائد پناہ گزیں ہیں، اور ہمیں توقع ہے کہ مزید لوگ آئیں گے، جن میں سے آدھی تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔ آپ اُن کے چہرے پر غصے، خوف اور ناراضگی کے نمایاں احساسات کو دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کو افسردگی نظر آئے گی‘۔

پناہ گزیں کیمپ پرموجود متعدد لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ضروری رسد نہ ہونے کے برابر ہے۔

اُن کے الفاظ میں، صورتِ حال بہت ہی بگڑ چکی ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، سردی ہے، خیموں میں سےبارش کا پانی ٹپک رہا ہے، بچے سردی کے مارے ٹھٹھر رہے ہیں، اور خواتین اور بچوں کو ٹھنڈ سے بچانے کے لیے کمبل کم پڑ گئے ہیں‘۔

پناہ گزینوں سےمتعلق اقوام متحدہ کے کمشنر نے کہا ہے کہ امداد کا کام کرنے والے لوگ اتنا ہی کچھ کر سکتے ہیں۔

ادارے کا سربراہ کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد شامی پناہ گزینوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے، جو چار لاکھ 42000تک پہنچ گئی ہے، لیکن شام کے وہ متعدد افراد جنھوں نے امدادی اداروں کے پاس اپنا اندراج نہیں کرایا وہ اِس میں شامل نہیں ہیں۔

دوسری طرف منگل کوآن لائن شائع ہونے والی ایک وڈیو میں شامی باغیوں کی طرف سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کا منظر دکھایا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG