رسائی کے لنکس

شام: سرکاری فورسز اور باغیوں میں شدید لڑائی

  • واشنگٹن

سیرین کے ایک بیان کے مطابق دمشق کے مضافات میں فوج اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں اور گولہ باری سے کم ازکم 41 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

شام کی سرکاری فورسز اور حکومت مخالف باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جب کہ شام کی حزب اختلاف کے ایک بڑے اتحاد کے قیام کو چھ ملکی خلیج تعاون کونسل نے تسلیم کرلیا ہے اور کئی عرب اور یورپی راہنماؤں نے اس کی حمایت پر زور دیا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس ‘ نے کہاہے کہ شام کی فضائیہ نے ترک سرحد کے قریب باغیوں کے زیر قبضہ قصبے پر دوسرے روز بھی بم برسائے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ راس العین پر جاری حملوں میں دو روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 31 ہوگئی ہے۔

جمعے کے بعد سے گولہ باری سے بچنے کے لیے تقریباً دس ہزار شامی باشندے سرحد عبور کرکے ترکی میں داخل ہوچکے ہیں۔

شام اور عرب کی ریڈکراس کے تخمینوں کے مطابق گذشتہ 20 ماہ سے جاری خانہ جنگی کے باعث 25 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے کے بعد ملک کے اندر مختلف حصوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سیرین آبزرویٹری نے منگل کے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ دمشق کے مضافات میں فوج اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں اور گولہ باری سے کم ازکم 41 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

ادھر شام میں صدر اسد کی وفادار فوجوں سے برسرپیکار باغیوں نے منگل کے روز خلیجی ریاستوں اور بعض مغربی ممالک کی اس اپیل کو مسترد کردیا کہ وہ نئے قائم ہونے والے حزب اختلاف کے اتحاد کی حمایت کریں۔

باغیوں کا کہناہے کہ اس اتحاد کے قیام سے زمینی صورت حال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، تاوقتتکہ باغیوں کو نقد رقوم اور گولہ بارود فراہم نہ کیا جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’ ہیومن رائٹس واچ‘ نے منگل کو ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے حزب اختلاف کے نئے اتحاد سے اپیل کی ہے کہ باغیوں کو ایک واضح پیغام بھیجیں کہ لڑائیوں کے دوران وہ انسانی حقوق کے قوانین کی لازمی پابندی کریں۔
XS
SM
MD
LG