رسائی کے لنکس

شام: مذہبی رہنما محمد البوطی کو سپرد ِ خاک کر دیا گیا


محمد البوطی جمعے کو دمشق کی ایک تاریخی اور قدیمی مسجد میں خودکش دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دھماکے میں اُن سمیت بیالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شام میں ہفتے کے روز سخت سیکورٹی میں مذہبی رہنما محمد البوطی کا جنازہ ادا کیا گیا جس میں شامیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

محمد البوطی جمعے کو دمشق کی ایک تاریخی اور قدیمی مسجد میں خودکش دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دھماکے میں اُن سمیت بیالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

محمد البوطی کے جنازے میں مذہبی رہنماؤں، رشتہ داروں اور ان کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ انکی نماز ِ جنازہ دمشق کی مقدس امیعد مسجد میں پڑھائی گئی جہاں وہ بہت عرصے تک دین کی تبلیغ کرتے رہے تھے۔

اس موقعے پر موجودہ شامی حکومت کے حامی سُنی رہنما مسجد میں محمد البوطی اور ان کے پوتے کے جنازے کے پاس بیٹھے رہے۔

دمشق کے مفتی عبدل الفتح ال بزام نے محمد البوطی کو ’قوم کا شہید‘ اور ’سچ کی علامت‘ قرار دیا۔ ان کے الفاظ، ’’ محمد البوطی نے اپنے آخری خطبے میں شامیوں کو اللہ کی طرف واپسی اور اپنی غلطیاں مانتے ہوئے اللہ کے ساتھ ربط استوار کرنے کی تلقین کی تھی۔ کیونکہ ان کے مطابق قوم کو اللہ سے معافی کا طلبگار ہونا چاہیئے اور اپنی غلطیوں کو ماننا چاہیئے‘‘۔

محمد البوطی کے جنازے میں شیعہ عالم ِ دین محمد علی تزکری نے بھی شرکت کی۔ جن کا کہنا تھا کہ محمد البوطی ’اعتدال پسند خیالات کے مالک‘ تھے۔ محمد علی تزکری کا یہ بھی کہنا تھا کہ محمد البوطی کو ’سچائی کی روشنی کو روکنے‘ کے لیے ہلاک کیا گیا۔

شام کے صدر بشار الاسد نے جمعے کو ملک میں موجود شدت پسندوں سے چوراسی سالہ مذہبی رہنما محمد البوطی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عہد کیا۔

محمد البوطی شامی صدر اور ان کے مرحوم والد کے پرانے اور کٹر حامیوں میں تصور کیے جاتے تھے۔
XS
SM
MD
LG