رسائی کے لنکس

شام: حما ایک بار پھر لڑائی کا مرکز بن چکا ہے


شام: حما ایک بار پھر لڑائی کا مرکز بن چکا ہے

شام: حما ایک بار پھر لڑائی کا مرکز بن چکا ہے

ایک مرتبہ پھر شام کا حما نامی شہر اسد خاندان کے ایک رکن کی قیادت میں چلنے والی حکومت کے خلاف شورش کا مرکز بن چکا ہے۔

جب سےاحتجاجی مظاہرین نے مارچ میں صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے مطالبات کا آغاز کیا ہے، سکیورٹی فورسز نے تشدد کی کارروائیاں کی ہیں۔

سرگرم کارکنوں نے حکومت مخالف مظاہروں کے لیےبارہا شہر کےاِس مرکزی اسکوائر کو اکٹھے ہونے کے لیے استعمال کیا ہے۔

سنہ 1982میں صدر کے والد سابق صدر حافظ الاسد نے حما کے مذہبی قدامت پسندوں کی ایک بغاوت کو کچلنے کے لیے فوج استعمال کی تھی۔ انسانی حقوق کے گرپوں کا کہنا ہے کہ اِس تین ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حما شام کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے جو دمشق کے شمال میں 300کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اِس شہر کی کم از کم آبادی 500000ہے، جو زیادہ تر سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

XS
SM
MD
LG