رسائی کے لنکس

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق جمعہ کو جبرین اور حمیری نامی علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 50 افراد زخمی بھی ہوئے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق حما صوبے کے دو مختلف علاقوں میں کار بم دھماکوں سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق جمعہ کو جبرین اور حمیری نامی علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 50 افراد زخمی بھی ہوئے۔

جن علاقوں میں یہ دھماکے ہوئے وہ صدر بشار الاسد کی حامی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس‘ نے حملوں کی تصدیق کی، لیکن تنظیم کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 15 ہے۔

اس دھماکے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم القاعدہ سے منسلک شدت پسند حکومت کے اہداف پر ایسے حملے کرتے رہے ہیں۔

سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس کے مطابق جمعرات کو حلب کی ایک مصروف مارکیٹ میں حکومت کے فضائی حملے میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جب کہ تنظیم کے مطابق اس سے ایک روز قبل حلب میں فضائی حملے کے دوران اسکول کو نشانہ بنایا گیا جس سے 18 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔

منگل کو القاعدہ کے جنگجوؤں کی طرف سے حمص میں کے گئے دہرے کار بم حملے میں کم از کم 100 افراد مارے گئے تھے۔

رواں ہفتے ہی حزب مخالف کے گروپوں نے کہا تھا کہ حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرول ضلع میں دو فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو ئے۔

2011 سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جاری لڑائی کے باعث 1,50,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رواں ہفتے ہی صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ وہ تین جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔
XS
SM
MD
LG