رسائی کے لنکس

شام: تشدد کے واقعات میں 24 افراد ہلاک


شام: تشدد کے واقعات میں 24 افراد ہلاک

شام: تشدد کے واقعات میں 24 افراد ہلاک

شام کے حکام باغیانہ کارروائیوں کا الزام مسلح دہشت گردوں پر لگاتے ہیں اور ان کا کہناہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری ان ہی دہشت گردوں پر عائد ہوتی ہے

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہناہے کہ وسطی شہر حمص میں سرکاری فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور حزب اختلاف کے گیارہ ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کو پرتشدد طریقوں سے روکنے کی حالیہ لہر میں کم ازکم 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

جمعرات کے روز شہر کے متعدد اضلاع کو گولاباری کا نشانہ بنایا گیا ۔ سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ ہفتے کی صبح سے شروع ہونے والی سرکاری فورسز کی ان تازہ کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

شام کی جانب سے آزادانہ خبروں کی ترسیل پر پابندیوں کے باعث لڑائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

شام کے حکام باغیانہ کارروائیوں کا الزام مسلح دہشت گردوں پر لگاتے ہیں اور ان کا کہناہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جن میں حمص میں کاربم دھماکے کا واقعہ بھی شامل ہے۔

چین ، جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر قرار داد کے موقع پر روس کا ساتھ دیا تھا، کہناہے کہ وہ شام میں حزب اختلاف کے گروپوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور ان کے ساتھ رابطوں میں رہنے کا خواہش مند ہے۔ جمعرات کو چین کا یہ اعلان ، اس ہفتے شام کی حکومت مخالف تنظیموں کے بیجنگ کے دورے میں حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے حکومت مخالفین کےساتھ بات چیت کے لیے نائب صدر فاروق الشرع کے تقرر کا وعدہ کیاہے ۔ لیکن حزب اختلاف کی تنظیموں نے حکومت کے ساتھ بات چیت کو مسترد کردیا ہے۔

ایک اور خبرکےمطابق جمعرات کو جرمنی نے کہاکہ وہ ملک میں شام کی حکومت مخالف تنظیموں کی جاسوسی کے شبے میں دوافراد کی گرفتاری کے بعد برلن میں واقع شام کے سفارت خانے سے منسلک چار سفارت کاروں کو ملک سے نکال رہاہے۔

جرمنی کی وزارت خارجہ نے منگل کی گرفتاریوں کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے سفیر کو طلب کرکے یہ بتادیا گیا ہے کہ جرمنی اس طرح کا طرزعمل برداشت نہیں کرے گا۔ گرفتار کیے گئے افراد میں سے ایک شام کاشہری ہے جب کہ دوسرے کے پاس جرمنی اور لبنان کی قومیت ہے۔

XS
SM
MD
LG