رسائی کے لنکس

ریڈ کراس اور شامی عرب ہلال احمر کی ٹیموں نے بابِ امر سے بے دخل ہوکر ابیل نامی گاؤں میں پناہ لینے والوں میں امداد تقسیم کی ہے، جو حمص شہر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آرسی) نے کہا ہے امدادی کارکنوں نے اُس گاؤں میں امدادی رسد تقسیم کرنا شروع کر دی گئی ہے جو حکومت ِشام کی طرف سے حمص کے باب امر ضلعےمیں کی جانے والی پُر تشدد کارروائیوں کےباعث وہاں سے نقل مکانی پرمجبورہوئے تھے۔

آئی سی آر سی حکام نے اتوار کو بتایا کہ ریڈ کراس اور شامی عرب ہلال احمر کی ٹیموں نےبابِ امر سے بے گھر ہوکر ابیل نامی گاؤں میں پناہ لینے والوں میں امداد تقسیم کی، جو حمص شہر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ آج ہی کے دِن حمص کے انشاعت ضلعے میں بھی امدادی کام کیا جائے گا۔

تاہم، آئی سی آر سی کےعہدے داروں کا کہنا ہےکہ شام کے فوجیوں نےسکیورٹی وجوہ کی بنا پرامدادی کارکنوں کو بابِ امرمیں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ جمعے کے روز سے امدادی کارکنوں کا ایک قافلہ سرکاری حکم نامہ جاری ہونے کا انتظار کررہا ہے، تاکہ سردی کی زد میں آئے ہوئے بھوکے اور زخمی سویلینز میں امداد تقسیم کی جاسکے۔

سال بھر سے صدر بشار الاسد کے آمرانہ اقتدار کے خلاف اجاری حتجاج میں حصہ لینے والے باغی نئی حکمتِ عملی کےتحت ایک روز قبل بابِ امر سے پسپا ئی اختیار کر گئے تھے۔

آئی سی آر سی کےحکام نے کہا ہے کہ بابِ امر میں داخل ہونے کی اجازت حاصل کرنے کی غرض سےامدادی قافلہ شامی اہل کاروں سے گفت و شنید جاری رکھے ہوئےہے۔

ایک اور خبر کے مطابق، اتوار کو ہی انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے بتایا ہے کہ اسد کی وفادارفوج نے حمص کے شمال میں باغیوں کے زیرقبضہ راستان نامی قصبےپر گولہ باری کی ہے۔ رائٹرزخبررساں ادارے کے وابستہ ایک نامہ نگار نےاطلاع دی ہے کہ حکومتی توپخانے نے حمص کے جنوب میں واقع قصیر نامی قصبے پر گولہ باری کی ہے۔


رائٹرز نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے ایک عہدے دار کے حوالے سے خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ قصیر پر کی جانے والی گولہ باری سے بچنے کے لیے 2000کے قریب شامی قریبی لبنان میں داخل ہوگئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG