رسائی کے لنکس

شام میں ممکنہ فوجی مداخلت کے خدوخال تیار: امریکی کمانڈر


جنرل ڈمپسی

جنرل ڈمپسی

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈمپسی نے یہ تجاویز ایک خط کے ذریعے کانگریس کو فراہم کی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسی مداخلت سے حزب مخالف کو مضبوط کرنے اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف دباؤ بڑھانے میں مدد ملے گی۔

امریکہ کے اعلٰی ترین عسکری کمانڈر نے شام میں ممکنہ فوجی مداخلت کے لیے خدوخال تیار کیے ہیں جن میں اس اقدام پر ہونے والے ممکنہ اخراجات اور شام کے بحران میں براہ راست مداخلت کے نتائج کا ذکر کیا گیا ہے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈمپسی نے یہ تجاویز ایک خط کے ذریعے کانگریس کو فراہم کی ہیں، جن میں حزب مخالف کی فورسز کو تربیت کی فراہمی سے لے کر شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے تک کی تفصیلات شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی مداخلت سے حزب مخالف کو مضبوط کرنے اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف دباؤ بڑھانے میں مدد ملے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے انتہا پسندوں کے مضبوط ہونے اور کیمیائی ہتھیاروں پر قبضہ کمزور ہونے جیسے غیر متوقع نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

امریکہ نے تاحال شام میں براہ راست طاقت کے استعمال کے کسی منصوبے کا اظہار نہیں کیا ہے اور ابھی تک وہ اس ملک میں انسانی بنیادوں پر امداد اور باغیوں کے لیے غیر مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کے منصوبے تک خود کو محدود رکھے ہوئے ہے۔

جنرل ڈمپسی کی تجاویز میں سے ایک شام پر نو فلائی زون نافذ کرنا ہے لیکن انھوں نے متنبہ کیا کہ اس کے لیے سینکڑوں طیارے درکار ہوں گے اور اس پر ماہانہ ایک ارب ڈالر تک خرچ آئے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس کے اثرات بھی محدود ہو سکتے ہیں کیونکہ شامی فورسز مارٹر اور میزائلوں سے حملہ کر سکتی ہیں۔

جنرل ڈمپسی کی تجاویز میں ’’بفرزون‘‘ یعنی غیر جانبدار محفوظ مقامات کا قیام بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر پڑوسی ممالک اردن اور ترکی میں ہو سکتی ہیں اور یہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے علاوہ حزب مخالف کی فورسز کو تریبت فراہم کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے بھی نو فلائی زون درکار ہو گی اور ساتھ ہی ساتھ امریکی بری افواج کی بھی ضرورت ہو گی اور اس پر بھی ماہانہ ایک ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس کی تجاویز میں سے ایک شام کی افواج کو کمزور کرنے کے لیے وہاں فضائی کارروائی کرنا ہے اور جنرل ڈمپسی کے بقول اس اقدام کے لیے بھی سینکڑوں امریکی طیارے اور بحری جہاز درکار ہوں گے اور اس کا خرچہ بھی اربوں ڈالر ہوگا۔

انھوں نے فوجی کارروائی کی صورت میں متنبہ کیا کہ امریکہ کو اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ’’ اس میں مزید مداخلت کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا‘‘۔

ان تجاویز سے قبل جنرل ڈمپسی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دیے گئے اپنے ایک بیان
میں کہہ چکے ہیں کہ شام میں ’’ جاری لہر‘‘ بظاہر مسٹر اسد کے لیے سودمند ثابت ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG