رسائی کے لنکس

صدر بشارالاسد کا سرکاری پکڑ دھکڑ کا دفاع


شام کے صدر بشارالاسد

شام کے صدر بشارالاسد

شام کے صدر بشارالاسد نے ملک میں سیاسی بے چینی پر قابو کے لیے اپنی فورسز کی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ مغربی ممالک کی تنقید ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

مسٹر اسد نے یہ بیان شام کے سرکاری ٹیلی ویژن پراتوار کی رات اپنے ایک طویل انٹرویو کے دوران دیا۔امریکہ، یورپی یونین اور کئی دوسرے مغربی ممالک یہ کہہ چکے ہیں مسٹر اسد کو لازمی طورپر اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔

صدر اسد نے کہا کہ نئی سیاسی جماعتوں کے قیام سے متعلق قوانین اگلے چند روز میں تیار ہوجائیں گے اور نئی پارٹی بنانے کے خواہش مند افراد کے پاس اس سلسلے میں ایک کمیٹی کو درخواست دینے کے لیے 45 دن موجود ہوں گے۔

شام کے صدر نے اپنے ملک کی اندورنی صورت حال پر ہمسایہ ملک ترکی کے تحفظات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ترکی کےمقاصد کیا ہیں ۔ انہوں نے کہ شام کسی کی جانب سے انسٹرکٹر یا اس کردار کو قبول نہیں کرے گا کہ وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔

ترکی نے مسٹر اسد پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ ختم کرنے پر زوردیتے ہوئے کہاتھا کہ اس کاخیال ہے کہ فی الحال شام کے صدر کو اقتدار چھوڑنے کے لیے کہنا قبل ازوقت ہے۔

دمشق کے ایک رہائشی نے سی این این کو ایک لائیو انٹرویو میں بتایا کہ مسٹر اسد بات چیت غیر واضح اور شام کے عوام پر عدم اعتماد پر مبنی تھی۔

شام کے صدر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک میں پانچ ماہ سے جاری شورش پرقابو پانے میں کامیابی حاصل کررہی ہیں۔

انہوں نے اپنے اصلاحات کے منصوبے کا ایک بار پھر ذکر کرتے ہوئے کہ اگلے چھ ماہ کے دوران شام کی قومی اسمبلی کے لیے نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ مسٹر اسد کی فورسز نے بڑے پیمانے پر منظم انداز میں شہریوں پر حملے کیے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم کے دائرے میں آتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG