رسائی کے لنکس

شام میں جاری ہنگاموں پر اسرائیل کی تشویش

  • لوئس رامیرز

شام میں جاری ہنگاموں پر اسرائیل کی تشویش

شام میں جاری ہنگاموں پر اسرائیل کی تشویش

اسرائیل ہمسایہ ملک شام کے واقعات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ 1967 کی عرب اسرائیلی جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مخاصمانہ رہے ہیں لیکن یہ علاقہ پُر سکون رہا ہے ۔ اب اسرائیلیوں کو تشویش ہے کہ شام میں ہنگاموں سے علاقے کے عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جنگ بندی کی لائن کے آس پاس کے علاقے میں بارودی سرنگوں سے خبردار کرنے کے نشانات لگے ہوئے ہیں۔ یہ بارودی سرنگیں کئی عشرے پہلے لگائی گئی تھیں۔ ماجدال شمس کے دروز آبادی والے قصبے میں، انسانی حقوق کے کارکن سلمان فخر الدین شام میں شورش کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے با خبر رہتے ہیں۔ ماجدال شمس میں رہنے والے دوسرے دروز باشندوں کی طرح وہ خود کو شامی سمجھتے ہیں جو اسرائیلی مقبوضہ علاقے میں رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہمیں تشویش ہے کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ۔ وہ ہمارا ملک ہے، وہاں ہمارے لوگ رہتے ہیں۔‘‘

اسرائیل کو بھی کچھ پریشانی اورتشویش ہے ۔ اسرائیلی لیڈر بڑی احتیاط سے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور اپنا موقف بیان کرنے سے پر ہیز کر رہے ہیں۔ گذشتہ چار عشروں سے جو کمزور سا امن قائم ہے، وہ اسے برباد کرنا نہیں چاہتے۔

مارک ریجِو وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ترجمان ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہم نے کھلے عام کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ۔ علاقے میں جو اضطراب ہے اور ہم بات کر رہے ہیں ایسی تبدیلی کی جو صحیح معنوں میں تاریخی ہے، جس سے علاقے کے تمام ملک متاثر ہوں گے، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ علاقے کے لوگ با اختیار ہونا چاہتے ہیں، وہ سیاسی اختیارات اور اقتصادی اختیارات چاہتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس میں دخل دیں۔ یہ خالصتاً عربوں کا مسئلہ ہے۔‘‘

نجی طور پر، سرکاری عہدے دار کہتے ہیں کہ انہیں تشویش ہے کہ شام میں ہلچل سے تعلقات میں مزید عدم استحکام پیدا ہو گا۔ وہ سوچتے ہیں کہ نہ معلوم مستقبل میں شام کس قسم کا دشمن ثابت ہو گا۔ کوئی یہ پیش گوئی کرنا نہیں چاہتا کہ شام کے لیڈر بشر الاسد اقتدار میں رہیں گے یا انہیں اقتدار چھوڑنا ہو گا۔اسرائیل کے سابق انٹیلی جنس چیف ابراہیم ہلاوی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حالات کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے لیڈر سکون کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔

’’ہمیں تشویش یہ ہے کہ اگر اسد کو بالآخر صدارت چھوڑنی پڑی، تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کون ان کی جگہ لے گا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اخوان المسلین کا کیا اثر پڑے گا جو وہاں موجود ہیں، اور شام میں ایرانی اثر و رسوخ کا کیا بنے گا۔ ہمیں ان سب چیزوں پر کڑی نظر رکھنی ہے۔‘‘

اسد حکومت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے با وجود، اسرائیلی اور شامی فورسز کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والا جنگ بندی کا علاقہ کئی عشروں سے پُر سکون رہا ہے ۔ شام نے جولان کی پہاڑیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے ، لیکن اس نے براہ راست فوجی کارروائی سے پرہیز کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ہلاوی کہتے ہیں کہ مسٹر اسد امن میں ہمارے شراکت دار نہیں رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ جس دشمن کو جانتے ہیں وہ اس دشمن سے بہر حال بہتر ہے جسے آپ بالکل نہیں جانتے ۔

مسٹر اسد کی حکومت اسرائیل کے سب سے زیادہ سخت دشمنوں، ایران اور حزب اللہ کی قریبی اتحادی ہے۔ اسرائیل کی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل یوری ساگائے کہتے ہیں کہ شام کے حزب اللہ اور لبنان کے ساتھ جس قسم کے تعلقات ہیں، وہ اسرائیل کو پسندنہیں ہے ۔

اسرائیلی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ کافی نہیں ہے کہ بہت سے اسرائیلی یہ چاہنے لگیں کہ اسد حکومت کا تختہ الٹ جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ اگر مسٹر اسد چلے جاتے ہیں، تو اس سے ایران کو کوئی اسٹریٹجک فائدہ ہو گا۔

جب سے شام میں ہنگامے شروع ہوئے ہیں، جولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں رہنے والے دروز جلسے کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ صدر اسد کے حامی رہ چکے ہیں اور کچھ ان کے خلاف ہیں۔ مظاہرین کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل جولان کی پہاڑیوں سے واپس چلا جائے، لیکن جلسوں میں اسرائیل کو نشانہ بنانے کی بات نہیں کی گئی ہے، اور امن برقرار رکھا گیا ہے ۔

جولان کا پہاڑی علاقہ

جولان کا پہاڑی علاقہ

فی الحال اسرائیل جولان کی پہاڑیوں میں مظاہروں کو، یا شام میں ہنگاموں کو براہ راست خطرہ نہیں سمجھتا، جب تک کہ جنگ بندی کی لائن کے ساتھ ساتھ علاقہ اتنا ہی خاموش اور پُر سکون رہتا ہے جتنا گذشتہ چند عشروں سے رہا ہے ۔

XS
SM
MD
LG