رسائی کے لنکس

بیرل بم کے استعمال پر شام کی حکومت ہدف تنقید


امریکی وزیرخارجہ جان کیری

امریکی وزیرخارجہ جان کیری

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بمباری اسد انتظامیہ کی طرف سے ’’تازہ ترین وحشیانہ اقدام‘‘ ہے اور حکومت ملک میں مزید تباہی پھیلانے پر توجہ دے رہی ہے۔

امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے شام کی حکومت کو شمالی شہری حلب میں بیرل بم گرانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس شہر میں صدر بشار الاسد کی حامی فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید ترین لڑائی دیکھی گئی ہے۔

منگل کو ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بمباری اسد انتظامیہ کی طرف سے ’’تازہ ترین وحشیانہ اقدام‘‘ ہے اور حکومت ملک میں مزید تباہی پھیلانے پر توجہ دے رہی ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ حزب مخالف اور بین الاقوامی برادری لڑائی کے خاتمے کی راہ تلاش کر رہی ہیں جب کہ حکومتی کارروائیاں جنیوا میں ہونے والی امن بات چیت کی کامیابی کی ’’ امید کو نقصان‘‘ پہنچا رہی ہیں۔

اس امن بات چیت کا پہلا دور بغیر کسی ٹھوس پیش رفت کے گزشتہ ہفتے ختم ہوا تھا۔ لیکن مسٹر بان کی مون کے خصوصی مندوب لخدار براہیمی نے توقع ظاہر کی تھی کہ حکومت اور حزب مخالف کے نمائندے دس فروری کو بات چیت کے عمل میں دوبارہ شریک ہوں گے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کے ملک کے بچوں پر ’’خطرناک اثرات‘‘ مرتب ہو رہے ہیں۔

سلامتی کونسل میں منگل کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں مسٹر بان کا کہنا تھا کہ سرکاری فورسز نے لاتعداد بچوں کو ہلاک کیا، انھیں گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا اور انھیں اسکول اور صحت عامہ کی سہولتوں تک رسائی سے دور رکھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حزب مخالف کے جنگجوؤں نے بچوں کو لڑائی میں کم سن سپاہیوں کے طور پر استعمال کیا جس سے بچوں سمیت بہت سا جانی نقصان ہوا۔

مسٹر بان نے ان بچوں پر اپنے خاندان کے افراد کی ہلاکت اور ان کے زخمی ہونے سے پڑنے والے اثرات پر توجہ دینے پر بھی زور دیا۔

انھوں نے دونوں فریقوں سے بچوں کے حقوق کی خلاف کی ورزی کو فوری طور پر بند کرنے اور ان کے احترام کرنے پر بھی زور دیا۔

شام میں تین سال سے جاری لڑائی میں سرکاری فورسز، ان کی حامی ملیشیا، فری سریئن آرمی کے باغی اور القاعدہ سے منسلک شدت پسند شریک ہیں۔

2011ء میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والے پرامن مظاہرے بعد ازاں تشدد کی صورت اختیار کر گئے اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس لڑائی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور نوے لاکھ کے لگ بھگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG