رسائی کے لنکس

شام: تشدد کے واقعات میں چھ افرا دہلاک


شام: تشدد کے واقعات میں چھ افرا دہلاک
شام: تشدد کے واقعات میں چھ افرا دہلاک

شام کی انسانی حقو ق کی تنظیموں کا کہناہے کہ چھ ہفتے قبل حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم ازکم 560 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

شام کی حزب اختلاف کے عہدے داروں نے کہاہے کہ ہفتے کے روز درعا شہر میں عام شہریوں پر فوج اور نشانہ بازوں کی فائرنگ سے کم ازکم چھ افراد ہلاک ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہلا ک ہونے والوں میں ایک عورت اور اس کی دو بیٹیاں بھی شامل ہیں جن کی ہلاکت اپنے گھر پر ٹینک کا ایک گولہ پھٹنے سے ہوئی۔

عہدے داروں کا کہناہے کہ فوجی ایک اہم مسجد عمری کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے شہر میں داخل ہوئے تھے جہاں لوگ حکومت مخالف مظاہروں کے لیے اکٹھے ہوتے تھے۔

عینی شاہدین اور حز ب مخالف کے کارکنوں کے مطابق درعا پر تازہ فوجی پکڑدھکڑ سے ایک روز ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے کے لیے سرکاری فورسز کی کارروائیوں کے دوران کم ازکم 65 افراد ہلاک ہوئے ۔ جمعے کے روز سب سے زیادہ ہلاکتیں درعا میں ہوئیں۔

درعا ہی کے علاقے میں ایک اور خبر کے مطابق صدر بشارالاسد کی بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے 138 سے زیادہ ارکان حکومتی پکڑ دھکڑ کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہوگئے ہیں۔ جب کہ کئی سو کارکن اس سے قبل پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز نے دارالحکومت دمشق میں گیارہ خواتین کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار کی جانے والی خواتین تقریباً 50 خواتین کے اس گروپ میں شامل تھیں جنہوں نے پکڑ دھکڑ کی حکومتی کارروائیوں کے مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے لگائے تھے۔

شام کی انسانی حقو ق کی تنظیموں کا کہناہے کہ چھ ہفتے قبل حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم ازکم 560 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

شام کے وزیر اعظم عادل سفر نے ہفتے کے روز بظاہر حزب اختلاف کو مطمئن کرنے کے لیے مزید کچھ اصلاحاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ خبررساں ادارے ثنا نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نئے وزیر اعظم آئندہ ہفتوں میں کئی سیاسی معاشی اور سیکیورٹی اصلاحات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG