رسائی کے لنکس

کوفی عنان کی شام سے خالی ہاتھ واپسی


ہفتے کو ہونے والی کوفی عنان کی مسٹر اسد سے ملاقات

ہفتے کو ہونے والی کوفی عنان کی مسٹر اسد سے ملاقات

اُنھوں نے مسٹر اسد کو مشورہ دیا کہ وہ ایک پرانی افریقی کہاوت پر دھیان دیں ، جس کے مطابق، ’آندھی کو روکا نہیں جا سکتا، اِس لیے آپ کشتی کا رُخ بدل دیں‘

اقوام متحدہ اورعرب لیگ کےایلچی، کوفی عنان دمشق سے واپسی کے سفر پرروانہ ہوگئے ہیں، ایسے میں جب کہ شام میں تقریباً سال بھر سے جاری تنازع کےخاتمے کے سلسلے میں اُنھیں کسی سمجھوتے پر پہنچنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل نے اتوار کے روز کہا کہ اُنھوں نےشامی عہدے داروں کو متعدد تجاویز دی ہیں اوریہ کہ وہ ’پُرامید‘ ہیں کہ مسٹراسد کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور تنازع کے ممکنہ حل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن، اُنھوں نے کہا کہ شورش کا خاتمہ لانا ایک’ مشکل‘ معاملہ ہے۔

عنان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ہلاکتوں کو فوری طور پربند کرنے پرزوردیتے ہوئےحکومت شام سے مطالبہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی بغاوت کے خلاف مہلک پُرتشدد کارروائی سے گریز کیا جائے اور سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے’ تبدیلی اور اصلاح ‘ کی راہ اپنا ئی جائے۔

اُنھوں نے مسٹر اسد کو مشورہ دیا کہ وہ ایک پرانی افریقی کہاوت پر دھیان دیں ، جس کے مطابق، ’آندھی کو روکا نہیں جا سکتا، اِس لیے آپ کشتی کا رُخ بدل دیں‘۔

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ مسٹر اسد نے عنان کو بتایا کہ کوئی سیاسی حل ممکن نہیں جب تک ’دہشت گرد گروہ‘ ملک کے لیے خطرہ بنے رہیں گے۔ ہفتے کو دونوں کی ملاقات کے بعد بھی اِسی قسم کا ایک بیان سامنے آیا تھا۔

شام کے ایک اہم جلا وطن اپوزیشن گروپ نےبھی حکومت کے ساتھ بات چیت کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ ’سیریئن نیشنل کونسل‘ کا کہنا ہے کہ ’ظالم اورمظلوم‘ کے درمیان کبھی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

کونسل نے مطالبہ کیا کہ کسی طرح کے مذاکرات سے قبل مسٹر اسد اور اُن کے مشیروں کو اقتدار سے سبک دوش ہونا پڑے گا۔

قطر کے امیر سے ملاقات کے لیے، عنان اتوار کے دِن دوحہ روانہ ہوئے، جو حکومتِ شام کے اہم ناقدوں میں سے ہیں اور جنھوں نے باغیوں کو مسلح کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG